سچی کہانی

ایک دن مال کے باہر میں گاڑی میں بیٹھا ہوا بیگم کا انتظار کر رہا تھا کہ ایک نوجوان نے مجھے متوجہ کرتے ہوئے پوچھا.

“جناب! کیا میں آپ کی گاڑی کا سامنے والا شیشہ صاف کردوں ؟”
“ہاں کردو!” میں نے کہا
جب میں نے اسےانتہائی محنت اور نفاست سے گاڑی صاف کرتے دیکھا تو خوش ہو کر اس کی مدد کے خیال سے بیس ڈالرز اسے تھما دیے، اس نے تعجب سے میری طرف دیکھا اور پوچھا کہ کیا آپ امریکہ سے آئے ہیں؟
میں نے اثبات میں جواب دیا .

پھر اس نے پوچھا کہ کیا میں آپ سے امریکہ کی
یونیورسٹیوں سے متعلق سوال کر سکتا ہوں؟
وہ انتہائی مہذب نوجوان تھا مجھے بھی اس کےحالات جاننے میں دلچسپی پیدا ہوئی تو میں نے اس سے سوال کیا:
“آپ کی کیا عمر ہے ؟”
” سولہ سال” اس نے جواب دیا.

مجھے اس کی تعلیم کے بارے میں. جان کر بہت حیرت ہوئی کہ وہ اتنی کم عمری کے باوجود خاصی بڑی کلاس پاس کر چکا تھا۔ وجہ اس نے یہ بتائی کہ ہر امتحان میں اس کی بہترین کارکردگی دیکھ کر اسے ڈبل پروموشن دے دیا جاتا تھا.

“پھر تم نے آگے کیوں نہیں پڑھائی کی اور یہ کام کیوں کرنے لگے ؟” میں نے اس سے پوچھا
“ابھی میں دو سال ہی کا تھا کہ میرے والد صاحب کا انتقال ہو گیااس کے بعد سے گھریلو اخراجات پورے کرنے کے لیے میری ماں ایک گھر میں کھانا پکاتی ہیں، میں اور میری بہن باہر کام کرتے ہیں.ہمارے مالی وسائل اتنے نہیں کہ میں اپنی پڑھائی آگے جاری رکھ سکوں ” نوجوان نے جواب دیا
پھر اس نے مجھ سے پوچھا کہ سنا ہے کہ امریکی یونیورسٹیاں اچھی کارکردگی کے حامل طلبہ کو پڑھائی کے لیے سکالرشپ دیتی ہیں تاکہ وہ بے فکری سے اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں۔میں نے کہا کہ ہاں ایسا ہی ہےاور اس سے پوچھاکہ کیا امریکہ میں تمہارا کوئی رشتہ دار ہے جو وہاں تمہاری مدد کر سکے؟
اس کا جواب نفی میں تھا. پھر میں نے اسے اپنے ساتھ کھانا کھانے کی دعوت دی تو وہ اس شرط پر راضی ہو گیا کہ وہ میری گاڑی کے پچھلے شیشے بھی صاف کر دےگا. میں نے ہامی بھر لی. ریسٹورنٹ میں اس نےوہاں میرے ساتھ بیٹھ کر کھانے کے بجائے اپنا کھانا پیک کرنے کو کہا. میرے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ گھر پر ماں اور بہن کھانے پر اس کا انتظار کرتی ہیں.میں اتنی بات چیت سے یہ اندازہ لگا چکا تھا کہ اسے انگریزی زبان پر مہارت حاصل ہےاور وہ ایک محنتی، قابل اور مہذب نوجوان ہے اور میں نے فیصلہ کرلیا کہ مجھے اس کی مدد کرنی چاہیے . اسے اس کے گھر اتارتے وقت میں اس کی تعلیمی اسناد کی کاپیاں ساتھ لیتا آیا اور ایک مشہور یونیورسٹی میں اس کے داخلے کی کوشش شروع کردی اور اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے چھ مہینے کے بعد اس لڑکے کوایک اچھی یونیورسٹی میں داخلہ مل گیا۔جاتے وقت جب وہ مجھ سے ملا تو اس نے کہا: “واللہ!مجھے تو یقین ہی نہیں آرہا اور مارے خوشی کے میری ماں، بہن اور میرے آنسو ہی نہیں تھم رہے ہیں! محترم آپ کا بہت شکریہ! “

یونیورسٹی میں اس کی عمدہ کارکردگی کے مدِّ نظر اسے سکالرشپ بھی مل گئی۔ دو سالہ پڑھائی کے بعد اس نے حسبِ توقع شان دار کامیابی حاصل کر لی. نیویارک ٹائمز اور دیگر اخبارات میں اس کا نام جدید ٹیکنالوجی کےسب سے کم عمر ماہر کی حیثیت سے شائع ہوا.

اس کی اتنی بڑی کامیابی کے پیشِ نظر گریجویشن کی تقریب کے لیے میری بیگم نے اس کے علم میں لائے بغیر اس کی ماں اور بہن کی شرکت کے انتظامات بھی کر لیے۔
نوجوان اپنی گریجویشن کی تقریب میں ماں اور بہن کو اپنے سامنے دیکھ کر بہت جذباتی ہوگیا اس نے مجھ سےکہا کہ میرے پاس آپ لوگوں کا شکریہ ادا کرنے کے لیے الفاظ نہیں ہیں. چند دنوں بعد میں اور میری اہلیہ گھر میں چائے پی رہے تھے کہ باہر اس نوجوان پر نظر پڑی… وہ گھر کے باہر میری گاڑی صاف کر رہا تھا. میں نے باہر جا کر اسے گلے لگایا، اور کہا:
“تم یہ کیا کر رہے ہو بیٹا ۔۔۔؟”
وہ تشکّر آمیز لہجے میں بولا : آپ مجھے یہ کرنے دیجیے تاکہ میں اپنا مشکل وقت اور آپ کے احسانات نہ بھول سکوں کہ میں کیا تھا اور آپ نے مجھے اس مقام تک پہنچانے کے لیے کیا کیا ہے!!
یہ سچی کہانی ڈاکٹر محمد خانی نے بیان کی ہے۔اس فلسطینی نوجوان کا نام فرید عبد العالی ہے، جو اب ہاورڈ یونیورسٹی کے بہترین اور مشہور ترین اساتذہ میں سے ایک ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: