کچھ لوگ اچھے کیوں لگنے لگتےہیں

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کچھ لوگ اچھے کیوں لگنے لگتے ہیں اور کچھ لوگوں سے خواہ مخواہ دوری محسوس ہوتی ہے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارواح کے گروہوں اور مخالف گروہوں کا ذکر کیا کہ جن ارواح کے ساتھ ہمیں مماثلت ہوتی ہے، عادات و اطوار کے لحاظ سے ایک دوسرے سے میل کھاتی ہیں، وہ دنیا میں بھی کسی نہ کسی طرح رابطہ قائم کر لیتی ہیں.

روح ہمیشہ سے حالت سفر میں ہے، کبھی آسمان سے زمین پر تو کبھی زمین سے آسمان پر. روح کی فطرت میں اپنے بچھڑے حصوں کی تلاش اور خود کو اس تلاش کے ذریعے مکمل کرنے کی خواہش ہے. روح سنگت پہچان لیتی ہے.

دو انسانوں میں سنگت مل جائے تو روح وہاں تک پہنچنے کے لیے بے قرار ہو جاتی ہے. جن ارواح میں مماثلت اور اشتراک ہوتا ہے وہ ایک دوسرے سے ملتے ہی ایک عجیب کشش اور اُنس محسوس کرنے لگتے ہیں. روحوں کا یہ باہمی تعلق صرف اس دنیا کے ملاپ تک محدود نہیں ہے بلکہ وہ ارواح جنہیں حیات بعد از موت گروہوں کی شکل میں اکٹھا ہونا ہے، وہ بھی دنیا میں ہی ایک دوسرے سے اپنائیت اور اُنس محسوس کرنے لگتی ہیں. روح امر ربی ہے اور رب کی کوئی صفت دو انسانوں میں حیران کن مماثلت کے ساتھ پیدا ہو جائے تو روحانی کشش یقینی ہے.

روح کا اصل رشتہ تو روح دینے والے کے ساتھ ہے اور اللہ تعالیٰ کے محبوب کے ساتھ ، جن کے لیے یہ زمین و آسمان وجود میں آئے. پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ خونی رشتے جن کے ساتھ اللہ نے ہمارا خاندان کا تعلق بنایا، ہمارے دلوں میں ان خونی اور رحم کے رشتوں کی محبت رکھ دی.

والدین، اولاد ، بہن بھائی یہ سب اللہ تعالیٰ کی پسند کے مطابق ہماری زندگی کا حصہ بنتے ہیں اور ان سے محبت بھی مالک کی طرف سے ودیعت کردہ ہوتی ہے. حالات کی گردشیں اس محبت کو جتنا مرضی دھندلا دیں، وقت کے جتنے فاصلے ان رشتوں کے درمیان حائل ہو جائیں، وہ خون کی طرح رگوں میں دوڑتے ان روحانی رشتوں میں محبت کی روانی کو روک نہیں سکتے. زمانے کی صعوبتوں کی جُھلسا دینے والی بے رحم دھوپ میں سایہ انہی رحم کے رشتوں کے گھنیرے درخت عطا کرتے ہیں.

دنیا میں محبت اور روح کے مقدس رشتوں کے حوالے سے تیسرے نمبر پر دوستی کے رشتے ہیں، جو محبت بھرے رشتوں کا حسن دوبالا کرتے ہیں. دوست وہ خدائی تحفہ ہیں، جن کے ساتھ خالصتاً روح کا رشتہ ہوتا ہے. یہ وہ انمول خزانہ ہوتے ہیں جن کے ساتھ دکھ سکھ ، خوشی غم اور جذبات و احساسات کی سانجھ بعض اوقات خونی رشتوں سے بھی بڑھ کر ہوتی ہے جن پر اعتماد ، یقین اور بھروسہ سب رشتوں سے بڑھ کر ہوتا ہے.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: