کامیابی کے یہ کام کرنا چھوڑ دو

اپنے چھوٹے چھوٹے کاموں کو ذرا بھی تاخیر سے مت کرو۔ جو کام کرنا ہو اسی وقت کرو۔ سستی اور کاہلی سے حد درجہ بچنے کی کوشش کرو ۔ متحرک رہو اور ہر کام کو وقت پر کرنے کو اپنا شعار بناؤ۔ نہ تو لوگوں کی تنقید پر کان دھرو اور نہ ہی دوسرے لوگوں پر کسی قسم کی تنقید کرو۔ جب ہم کسی اور پر تنقید کرتے ہیں تو اس کا حوصلہ پست کرتے ہیں اور دنیا مکافات عمل ہے۔ جو برا کرو گے لوٹ کر تم پر ہی آجائے گا۔

ابراہام لنکن کہتا ہے: کسی دوسرے پر تنقید کرنے سے پہلے اس بات کو سمجھ لو کہ اگر تم بھی انہی حالات کا شکار ہوتے جیسے وہ دوسرا ہے تو تم بھی شاید وہی حمکت عملی اختیار کرتے۔ کسی اہم انسان یا چیز کوکبھی نظر اندا زمت کرو۔کچھ لوگ ہماری زندگی میں بہت مثبت کردار ادا کرتے ہیں اور وہ ہمارے لیے قابل قدر ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو نظر انداز کرنے سے ہم ان کو اس غلط فہمی میں مبتلا کر دیتے ہیں کہ وہ ہمارے لیے کسی اہمیت کے حامل نہیں ہیں۔ اس سے گریز کرنا چاہیے۔ کچھ چیزیں بھی ہمارے لیے بہت اہم ہو سکتی ہیں جیسے وہ آلہ کار جس سے آپ روزی کماتے ہو، آپ کی گاڑی آپ کا گھر۔ ان کا بھی خوب خیال رکھنا چاہیے۔ جب کسی انسان یا چیز کی حفا ظت ٹھیک سے کی جاتی ہے اور اس کا خیال رکھا جاتا ہے، تو وہ ہمیشہ تروتازہ اور نئے نئے رہتے ہیں۔

کسی بھی چیز کی زیادتی انسان کے لیے مضر ہوتی ہے۔ زیادہ کھانا، زیادہ سونا، زیادہ سوچنا، زیادہ بولنا، زیادہ ہنسنا، زیادہ رونا، کوشش کرو کہ ہر کام اور ہر چیز کو میانہ روی کے ساتھ اختیار کرو۔ دنیا کا سب سے گھٹیا کام بہانہ بازی ہے۔ اس سے ہمیشہ باز رہو۔ جو انسان بہانے بناتا ہے وہ پھر صرف یہی کام کرنے جو گا رہ جاتا ہے۔ جتنا بھی برا ہوا ہو اور جو مرضی ہو جائے اپنا کام پوری ذمہ داری سے کرو اور اگر کسی اور کی غلطی بھی ہو تو بھی کوئی بہانہ مت بناؤ بلکہ بے شک اوروں کی غلطیاں بھی اپنے سر لے لو۔ اس سے خدا تم پر رحم کرے گا۔ جو چیز اصل میں انسان کی ہر سوچنے سمجھنے کی حس کو بالکل بیکار کر دیتی ہے، وہ انسان کا ضرورت سے زیادہ پریشان ہونا ہے۔

حد سے زیادہ پریشان ہونے سے آپ میں کسی کام کو انجام دینے کی سکت نا پید ہو جاتی ہے۔خداراہ زیادہ ٹینشن لینا بند کر دو۔ ڈرنا چھوڑ دو۔ انسان جب خوف کا شکار ہوتا ہے تب بھی اس کی کارکردگی بہت متاثر ہوتی ہے۔ خوف اور ڈر ایسی بلائیں ہیں جو بذات خود اس قابل ہیں کہ ان سے ڈرا جائے بجائے اس کے کہ آپ کسی اور حیوانی بلا سے ڈریں۔زیادہ سے زیادہ کیا ہو جائے گا؟ آپ کو کوئی ٹھکرا دے گا؟ آپ کی شادی ٹوٹ جائے گی؟ آپ کی جاب چلی جائے گی؟ ان باتوں سے ہم جتنا ڈرتے ہیں اتنا حساس ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔ شادی ٹوٹے گی تو کسی اور سے ہو جائے گی۔ جاب جائے گی تو اور مل جائے گی۔ کوئی ٹھکرا دے گا تو دنیا اور انسانوں سے لدی پڑی ہے۔ انسان کسی بھی کام کو ٹھیک سے نہیں کر پاتا اگر وہ ڈر اور خوف کا شکار ہو جائے اور سب کو دل سے ناکامی سے بہت خوف آتا ہے لیکن خود کو یہ باور کرانا چاہیے کہ

سب کچھ ختم ہو جائے، سب برباد ہو جائے تو بھی انسان نئے سرے سے اپنی اچھی زندگی کا آغاز با آسانی دوبارہ کر سکتا ہے۔ کسی بھی غلطی کے لیے خود کو اور اوروں کو الزام دینا بند کر دو۔ انسان کا ضمیر سب سے منصف جج ہے اور وہ خود سب سے بہتر جانتا ہے کہ کس کی کیا غلطی تھی۔ اپنا ضمیر مطمئن رکھو تو تم پر سکون رہو گے۔ کبھی کسی کے ساتھ غلط نہ کرو تو تمہیں کسی اور کے کسی امر سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

جو انسان کسی کا حق مارے وہ پر سکون نہیں رہ سکتا۔ شکایات کرنا بند کرو۔ جتنا وقت ہم شکایتیں کرنے میں ضائع کر دیتے ہیں اس میں تو ہم بہت سے کام نمٹا بھی لیتے۔انسان کی عادت ہوتی ہے کہ وہ گلے شکوے کرنا پسند کرتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر کسی اور کو آپ سے فرق پڑتا تو وہ ایسا کچھ کرتا ہی نہیں کہ آپ کو شکایت کرنے کی ضرورت پڑتی تو پھر غلط امیدیں مستقبل میں لگانے کا بھی بھلا کیا فائدہ۔ اس نے آپ کے گلے شکوے سن کر کونسا بدل جانا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: