علم اور جہالت میں فرق

ایک بوڑھی عورت مسجد کے سامنے بھیک مانگتی تھی۔
ایک شخص نے اس سے پوچھا کہ کیا آپ کا کوئی بیٹا کمانے کے قابل نہیں ہے ؟
تو اس بوڑھی عورت نے کہا کہ ھے تو پھر آپ یہاں کیوں بھیک مانگ رہی ہیں؟

بوڑھی عورت نے کہا کہ میرے شوہر کا انتقال ہوگیا ہے۔
میرا بیٹا نوکری کے لئے بیرون ملک گیا ہے۔ جاتے ہوئے اخراجات کے لئے مجھے کچھ رقم دے کر گیا تھا،
وہ خرچ ہوگئی ہے ،
اسی وجہ سے میں بھیک مانگ رہی ہوں۔

اس شخص نے پوچھا – کیا آپ کا بیٹا آپ کو کچھ نہیں بھیجتا ہے؟
بوڑھی عورت نے کہا – میرا بیٹا ہر ماہ رنگا رنگ کاغذ بھیجتا ہے جسے میں گھر میں دیوار پر چپکا کر رکھتی ہوں۔

وہ شخص اس کے گھر گیا اور دیکھا کہ دیوار پر بینک کے 60 ڈرافٹ چسپاں کردیئے گئے ہیں۔
ہر ڈرافٹ ₹ 50،000 روپے کا تھا۔
تعلیم یافتہ نہ ہونے کی وجہ سے، وہ عورت نہیں جانتی تھی کہ اس کے پاس کتنی دولت ہے۔
اس شخص نے اسے ڈرافٹ کی اہمیت سمجھا دی تو وہ عورت بہت خوش بھی ہوئی اور حیران بھی ہوئی اور پریشان بھی ہوئی کہ دولت ہوتے ہوئے بھی وہ بھیک مانگتی رہی ہے۔

ہماری حالت بھی اس بوڑھی عورت کی طرح ہے

ہمارے پاس قرآن ہے اور ہم اسے اپنے منہ سے چومتے اور ماتھے پر لگا کر اپنے گھر میں رکھتے ہیں

لیکن ہم اس کا فائدہ صرف اس صورت میں اٹھا سکیں گے جب ہم اسے پڑھیں گے،
اس کے معنیٰ اور تفسیر کو سمجھیں گے اور اس کو اپنی عملی زندگی میں لے آئیں گے۔
تب ہی انشاءاللہ ہماری دنیا اور اس کے بعد کی زندگی دونوں بہتر ہوگی۔

اللّٰہ تعالٰی ہم سب کو قرآن کی عظمت کو سمجھنے کی توفیق عطاء فرمائے آمین۔

بہت بڑا خزانہ ہمارے پاس موجود ہے لیکن ہماری جہالت کی وجہ سے اس میں چھپے انعامات سے آج ہم سب محروم ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: