معاشرے کی تلخ حقیقت

آج میں آپ کو اس تلخ حقیقت سے آگاہ کرنے جا رہا ہوں جس کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں بہت سی بیماریاں جنم لے رہی ہیں جن میں سرفہرست ہے

2- عورت کو ذہنی مریض بنانا

3- بیٹے کو نفع اور بیٹی کو نقصان سمجھنا

4- بیٹے کے پیدا ہونے پر فخر اور بیٹی کے پیدا ہونے پر دکھ کا اظہار کرنا

5- لڑکیوں کو بوجھ سمجھنا

یہ کہانی ہے جبران صاحب کی جو پیشے کے اعتبار سے ایک حکیم تھے اور دور دور سے لوگ ان سے دوائی لینے آیا کرتے تھے اپنے انہیں حکیمی ٹوٹکوں کی وجہ سے انہوں نے کچھ ایسی دوائیاں کھائیں جو ان کے بقول ان کے بیٹے پیدا کرنے کی وجہ بنی حکیم صاحب کے ماشاءاللہ سے سات بیٹے تھے اور جس دن ان کے گھر ساتویں بیٹے کی پیدائش ہوئی انہوں نے اپنے گھر میں ایک پارٹی رکھی اور وہ بہت خوش تھے اور اپنے سب دوستوں اور رشتہ داروں کو فخر سے بتا رہے تھے اب ماشاء اللہ سے میرے سات بیٹے ہیں بس کچھ عرصے کی بات ہے اس کے بعد میرے بیٹے ہی میرے کام کو سنبھالیں گے اور وہ وقت دور نہیں جب میرے سات بیٹوں کی وجہ سے میری بہت عزت اور اونچا مقام ہوگا

اسی پارٹی میں حکیم صاحب کے چھوٹے بھائی شرافت صاحب بھی تشریف فرما تھے شرافت صاحب کی پانچ بیٹیاں تھیں اور وہ بہت ہی سادہ لوح انسان تھے پیشے کے لحاظ سے ایک معمولی کلرک تھے حکیم صاحب ان سے ہمیشہ خفا رہتے تھے کے شرافت میں نے تمہیں کتنی دفعہ کہا ہے تم دوسری شادی کر لو تمہاری عورت بیٹا پیدا کرنے کے قابل نہیں میں نے تمہیں بولا تھا میں تمہیں جڑی بوٹیوں کا اسپیشل روغن تیار کرکے دوں گا تم اسے دودھ کے ساتھ پیا کرو شاید اللہ تم پر بھی مہربان ہو جائے شرافت صاحب بولے حکیم صاحب ایسی کوئی بات نہیں اگر میری قسمت میں ہوتا تو اللہ مجھے بیٹا بھی ضرور دیتا اس میں آپ کی دوائیوں کا کوئی کمال نہیں یہ تو بس میرے اللہ کی مرضی ہے وہ کسی کو بیٹے دیتا ہے اور کسی کو بیٹیاں اور کسی کو بے اولاد رکھتا ہے میں اللہ کا شکر بجا لاتا ہوں کہ اس نے مجھے اس قابل سمجھا کے اپنی پانچ رحمتوں سے نوازا بس دعا کریں اللہ ان بیٹیوں کے نصیب اچھے کرے

حکیم صاحب نے زور کا قہقہہ لگایا اور بولے ارے بے وقوف یہ تو تجھ پر بوجھ ہیں اور زندگی میں تجھے کبھی بھی ترقی کرنے نہیں دے گی میں دعا کروں گا کے اللہ تجھے اتنی توفیق دے کہ تم ان کی خیر خیریت سے شادیاں کروا سکو شرافت صاحب بولے حکیم صاحب آپ فکر نہ کریں مجھے فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں جو اللہ بیٹیاں دیتا ہے وہ ان کا مستقبل بھی بہتر کرے گا وقت گزرتا گیا اور بچے بڑے ہوتے گئے اور آج ان دونوں بھائیوں کے بچے جوان ہو گئے ہیں جو میں دیکھ رہا ہوں وہ بتاتے ہوئے مجھے بڑی حیرانی ہو رہی ہے حکیم صاحب کی عمر ہو گئی ہے اور اب اس بڑھاپے میں انہیں نظر بھی صحیح نہیں آتا ان کا دل ہے کہ ان کا کوئی بیٹا حکیمی کی دوکان سنبھالے لیکن بدقسمتی سے بیٹوں کا بہت برا حال ہے ایک بیٹا نشے کی لت میں پڑ چکا ہے دوسرا بیٹا بدمعاشی میں قدم رکھ چکا ہے تیسرا بیٹا روز لوگوں کو بیوقوف بناتا ہےاور فراڈ کرتا ہے چوتھا بیٹا ذہنی مریض ہے لوگ کہتے ہیں

اس پر کسی نے تعویذ ڈال دیے ہیں باقی تین بیٹے پڑھے لکھے ہیں اور بے روزگار ہیں اور باپ کی حکیمی کی دوکان کو سنبھالنے کے لیے تیار نہیں ایک دن حکیم صاحب دکان بند کر کے واپس آ رہے تھے کہ راستے میں ان کا ایکسیڈنٹ ہوگیا اب وہ بالکل اس حالت میں نہیں کے اپنی دکان سنبھال سکیں جو رہی سہی تھوڑی بہت بچت حکیم صاحب نے کر رکھی تھی وہ ان کی بیماری اور علاج پر خرچ ہوگی اب حالات یہ ہیں کہ حکیم صاحب کے گھر میں فاقے ہیں اور وہ اپنے بیٹوں سے اور اپنی زندگی سے بہت پریشان ہیں اب آتے ہیں شرافت صاحب کی طرف کہ ان کی زندگی کیسے گزر رہی ہے شرافت صاحب کی دو بیٹیاں سی ایس ایس کر کے اعلی عہدوں پر فائز ہیں اور دو چھوٹی بیٹیاں برطانیہ میں اعلی تعلیم حاصل کر رہی ہیں اور ان کی آخری اور لاڈلی بیٹی پنجاب میڈیکل کالج کے فائنل سمیسٹر میں ہے اور عنقریب ڈاکٹر بننے والی ہے

اور اگر آپ شرافت صاحب کے بارے میں پوچھیں وہ ریٹائرڈ ہو گئے ہیں اور آج کل ایک سکون اور اطمینان کی زندگی گزار رہے ہیں اور اپنی بیٹیوں سے بہت خوش اور مطمئن ہیں اور ان کی دو بڑی بیٹیوں کے اعلیٰ عہدے پر فائز ہونے کی وجہ سے کالونی میں ہر انسان شرافت صاحب سےبڑی عزت سے بات کرتا ہے اور آئے دن لوگ ان کے گھر میں اپنے مسائل لے کر آتے ہیں اور شرافت صاحب کو کہتے ہیں کہ اپنی بیٹیوں سے کہہ کر ان کے مسائل حل کروا دے اور شرافت صاحب بڑے فخر سے کہتے ہیں جی کیوں نہیں مجھ سے جو ہو سکے گا میں آپ کی مدد ضرور کروں گا ایک دن کا ذکر ہے کے شرافت صاحب کی بڑی بیٹی اپنے پروٹوکول کے ساتھ دفتر جا رہی تھی کہ راستے میں اس نے دیکھا کہ اس کے تایا حکیم صاحب سڑک پر دھوپ میں بے ہوش پڑے ہیں مکھیاں اور کیڑے مکوڑے ان کے منہ پر بیٹھے ہوئے ہیں اور یہ سمجھ سے باہر ہے کہ وہ اس ٹریفک سگنل پر آخر اس طرح سے بے ہوش کیوں پڑے ہیں ؟

یہ سارا ماجرا سمجھنے کے لئے شرافت صاحب کی بیٹی نے گارڈ کو بولا یہ جو شخص ٹریفک سگنل پر بے ہوش پڑا ہے اسے فورا اٹھاؤ اور میری گاڑی میں لے آؤ اس کے بعد وہ انہیں ہسپتال لے گئی ڈاکٹر صاحب نے بولا یہ شخص کافی دنوں سے بھوکا لگتا ہے اور کچھ نہ کھانے پینے کی وجہ سے بے ہوش ہے ہم نے اسے گلوکوز لگا دیا ہے چند گھنٹوں تک یہ ہوش میں آ جائے گا اس کے بعد شرافت صاحب کی بیٹی نے اپنے والد کو کال کی اور انہیں ہسپتال بلایا جب وہ ہسپتال پہنچے تو اپنے بھائی کو اس حالت میں دیکھ کر بہت روئے کے آخر بھائی صاحب اتنے برے حالات میں تھے اور انہوں نے مجھے بتانا گوارا بھی نہیں سمجھا پھر کچھ دیر بعد حکیم صاحب کو ہوش آیا اور اپنے بھائی کو اپنے قریب بیٹھا دیکھ کر وہ زار و قطار رو پڑے اور اپنا درد دل بیان کرنا شروع کیا

حکیم صاحب بولے شرافت میں آج اس وقت کو کوستا ہوں جب میں تمہیں دوسری شادی کرنے کے مشورے دیا کرتا تھا اور تمہاری بیٹیوں کو بوجھ کہتا تھا آج یہ تمہاری وہی بیٹیاں ہیں جو تمہارے سر کا فخر ھے اور دوسری طرف میرے سات بیٹے جو کبھی میرا غرور ہوا کرتے تھے آج جب گھر میں کھانے کو کچھ نہیں تھا تو بجائے اس کے میرا بازو بنتے اور کہیں محنت مزدوری کرتے مجھے ایک ٹوکرا پکڑا کر ٹریفک سگنل پر بٹھا جاتے ہیں اور رات کو آ کر بھیک کے پیسے لے جاتے ہیں کچھ کھانے کو بھی نہیں دیتے اگر کوئی ترس کھا کر تھوڑا بہت نہ کھانے لائق کھانا دے جائے تو میں وہی کھا لیتا ہوں اور جب میرے پاس بھیک کے زیادہ پیسے اکٹھے نہ ہوں تو مجھے بہت مارتے ہیں اور گالیاں بھی دیتے ہیں پچھلے تین دن سے بارش ہو رہی تھی نا لوگ بھیک دیتے تھے اور نا کھانا بیٹے بھی روزانہ رات کو آتے اور کھالی کٹورا دیکھ کر مار پیٹ کر چلے جاتے ہیں مجھے میرے ایک ہمسائے نے بتایا ہے کہ حکیم صاحب آپ کے بیٹوں نے آپ کا گھر بھی کوڑیوں کے بھاؤ بیچ دیا ہے
اور میرے یہ سات بیٹے جن پر کبھی مجھے بہت غرور ہوا کرتا تھا آج میرے لیے جان کا عذاب بن گئے ہیں میری بیوی بھی ان کے ظلم و ستم کو برداشت نہ کرتے ہوئے اس دنیا سے چلے گی اور اب میں بھی اپنی موت کا منتظر ہوں آخر وہ کونسی منہوس گھڑی تھی جب میرے گھر یہ سات بیٹے پیدا ہوئے آج میں یہ سوچتا ہوں کے کاش اللہ تعالی نے مجھے بھی تمہاری طرح رحمتیں دی ہوتی تو وہ بھی آج مجھے سر پہ بٹھا کے رکھتی اللہ تمہیں اپنی زندگی میں ایسے ہی خوش رکھے

حکیم صاحب کی کہانی سن کر شرافت صاحب اور ان کی بیٹیاں زار و قطار رو رہی تھی اور اس کے بعد انہوں نے شرافت صاحب کو بھی اپنے گھر رکھ لیا ان کی بھی اپنے باپ کی طرح خدمت کی اور دعائیں لی بس پھر کیا تھا روتے چلاتے اور اپنی قسمت کو کوستے حکیم صاحب کچھ عرصہ بعد اس دنیا سے رخصت ہوگئے اور پھر ان کا جنازہ شرافت صاحب نے ادا کیا اور ان کی آخری رسومات پوری کی دوستو ہمارے اس معاشرے میں ہم لوگ لڑکیوں کے پیدا ہونے پر دکھ کا اظہار کرتے ہیں اور بیٹوں کے پیدا ہونے پر مٹھائیاں بانٹی جاتی ہیں نیاز بانٹی جاتی ہے درباروں پر منتیں مانی جاتی ہے اور بھی پتہ نہیں کیا کیا حرکتیں کرتی ہے ہماری یہ جاھل عوام اور ایسے رشک کرتے ہیں جیسے بیٹا نہیں کوئی فرشتہ پیدا ہو گیا ہو

میرے دوستو ہم سب کو اس بارے میں سوچنا چاہیے اور لڑکیوں کو لے کر اپنی سوچ بہتر کرنی چاہیے اور جب بھی آپ کے ہاں بیٹی پیدا ہو یا بیٹا پیدا ہو خوشی برابر کی ہی کرنی چاہیے اور بس یہ دعا مانگنی چاہیے چاہے اللہ آپ کو بیٹا دے یا بیٹی دے بس اس کے نصیب اچھے کرے اور آپ کی اولاد کو آپ کے لیے راحت کا سبب بنائے اللہ میرا اور آپ سب کا حامی و ناصر ہو دعاؤں میں یاد رکھنا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: