جس پر احسان کرو اُسکے شر سے بچو

میری مارکیٹ میں چند کار واش کرنے والے لڑکے ہیں کار واش کرنا تو ان کا پارٹ ٹائم کام ہے اصل کام تو اُن کا مارکیٹ میں آنے جانے والے لوگوں کو سلام کرنا ہے جس کے بدلے لوگ اُنہیں کچھ پیسے وغیرہ دے دیتے ہیں۔ میں بھی گاہے بگاہے اپنی گنجائش کے مطابق انہیں دے دیا کرتا ہوں۔ اور دل میں سوچتا ہوں کہ غریب ومساکین پر احسان کرنے کا حکم ہے۔ جو کہ ایک غلط رویہ ہے مدد کرنا احسان کرنا سپورٹ کرنا بعض لوگوں کی ڈکشنری میں ہی نہیں ہے۔

مثال کے طور پر ایک نجی محفل میں جہاں میرے پیارے دوست ڈاکٹر ناظر محمود بھی موجود تھے وہاں نامور سائنس دان ڈاکٹر پرویز ہود بھائی نے یہ راز افشاں کیا کہ وہ یہ مدد، سپورٹ، احسان جیسے الفاظ کو نہیں مانتے بلکہ یہ الفاظ اُن کی نظر میں اچھے نہیں ہیں۔ مجھ سمیت کئی لوگوں کو حیرت ہوئی سوال کرنے پر ڈاکٹر پرویز ہود بھائی نے کہا ” جب کسی کو پریشانی اور تکلیف میں دیکھو اُس کی پریشانی ایسے دور کرو جیسے یہ تمہارا کام ہے۔ نہ یہ اُس پر کوئی احسان ہے، نہ اُس کی کوئی مدد ہے۔اسی طرح ایک دوست اور ہیں انہیں کہیں معلوم ہوجائے کہ فلاں شخص کہیں کسی جگہ پریشان کھڑا ہے ( پھر چاہے وہ اُن سے علم، عقل اور حثیت میں بھی کم ہو ) تو فوراً وہاں پہنچ جاتے ہیں مالی یا سماجی ہر طرح کا کام ایسے کرتے ہیں جیسے اُنہیں پیدا ہی اسی مقصد کے لیے کیا گیا ہے۔

بس سُن لیں کہ فلاں بیمار ہے یا مسائل میں گھیرا ہوا ہے اُسے فوراً فون کر کے تیمارداری کرتے ہیں یا مدد کی آفر کرتے ہیں۔ بل کہ غصہ کرتے ہیں کہ جب آپ پریشان تھے اُس وقت مجھے فون کیوں نہیں کیا میں وہاں آجاتا اگر دور ہوتا تو کسی نہ کسی طرح آپ کا مسلہ حل کرنے کی کوشش کرتا۔ آئندہ ایسا ہو تو مجھے ضرور یاد کرنا ۔ یعنی ایسا لگتا ہے کہ اُنہیں دوسروں کی پریشانی کا علم ایسے ہوجاتا ہے جیسے انسان کو اپنے جسم کے کسی حصے میں تکلیف کا علم ہوجاتا ہے اور وہ اُس تکلیف کو دور کرنا اپنے جسم پر احسان نہیں ہے۔ اور پھر ایسے بھول جاتے ہیں کہ اگر یاد دلواؤ کہ فلاں دن فلاں جگہ آپ نے میری مدد کی تھی تو کہتے ہیں یار مجھے یاد نہیں اور پھر اپنے دوسرے کاموں میں مصروف ہوجاتے ہیں۔

ہاں تو میں شر کے حوالے سے بات کررہا ہے۔ ایک دن اُن کار واش کرنے والے لڑکوں سے میں نے کہا گاڑی صاف کردو کتنے پیسے لو گے؟ بولا تین سو روپے میں نے کہا دو سو لے لینا ساڑے تین سو تو سروس اسٹیشن والے لیتے ہیں۔ مگر وہ لڑکا نہیں مانا اور منہ بناتا ہوا دوسری کار سے اترتے ہوئے شخص کو سلام کرنے چلا گیا۔ اُس دن مجھے دکھ ہوا کہ جس لڑکے کو کبھی پانچ سو کبھی ہزار ویسے ہی دے دیا کرتا تھا آج صرف سو روپے کی خاطر اُس نے میرے احسانات کی پرواہ تک نہ کی اگر وہ زرا سا صبر کرتا تو میں اُسے 3 سو بھی دے دیتا۔

یہ تو محض فرضی کہانی ہے جو بات سمجھانے کے لیے کہنا پڑی۔ مگر اس کہانی سے سبق یہ ملا کہ ہم جس پر احسان کرتے ہیں اُس سے فرماں برداری کی امید رکھ لیتے ہیں اور جب وہ سو میں سے ایک حکم ماننے سے انکار کرتا ہے تو ہم کہتے ہیں جس پر احسان کرو اُس کے شر سے بچو۔ میں کہتا ہوں احسان کرو اور جس پر احسان کیا اور اپنا کیا گیا احسان دونوں کو بھول جاؤ تاکہ بعد میں خود کو تکلیف میں مبتلہ کرنے والے عمل سے بچو ” فلاں کو میں نے نوکری دلوائی آج سلام تک نہیں کرتا، فلاں بھوک مررہا تھا اور آج مال آیا تو نظر بھر کر نہیں دیکھتا۔ محسن کیوں سوچے کہ میں نے اس کی مدد کردی اب سے میرے مطابق زندگی گزارنا ہوگی، جیسا میں کہوں ویسے کپڑے پہنے، ویسا کھانا کھائے، جیسا میں سوچتا ہوں ویسا یہ بھی سوچے میرے نظریات پر زندگی گزارے۔

ایسے موقع پر ایک شعر بہت پڑھا جاتا ہےمیرے ہاتھوں کے تراشے ہوئے پتھر کے صنم آج بت خانے میں بن کر خدا بیٹھے ہیں. دراصل محسن جب کسی پر احسان کرتا ہے تو اپنے اندر ہی اندر وہ خود کو جس پر احسان کیا جائے اُس سے افضل مان لیتا ہے۔ حالانکہ بزرگ فرمایا کرتے تھے کہ جس پر احسان کرو اُن کے سامنے نظریں نیچی رکھو کہیں ایسا نہ ہو کہ تم اُس سے آنکھیں ملاؤ اور اُن کی آنکھوں میں تمہیں شرمندگی نظر آئے اور تم متکبر ہوجاؤ ۔ایک جاننے والا جو پہلے اچھا دوست بھی رہا ہے اُس کہ ایک عادت مجھے بُری لگتی تھی۔وہ بار بار اُن سفید پوش دوستوں جو اُس کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے تھے اُن کی غیر موجودگی میں بڑے فخر سے نام بتا بتا کر احسانات دوسروں سے شئیر کرتا یہاں تک کہ جس نے اُس سے کبھی رازداری سے مدد کی درخواست بھی ہے اور اُس نے مدد نہ کی تب بھی کہتا فلاں نے مجھ سے پیسے مانگے ہیں میں نے منع کردیا۔

ہم کہتے بھائی منع کردیا یا مدد کردی آپ اپنے اور اُس بندے تک رکھو کسی کا بھرم کیوں کھول رہے ہو کل وہ کسی بات کر ناراض ہوگیا تو آپ نے تو ڈھول بجا دینا ہے کہ ” جس پر احسان کرو اُس کے شر سے بچو ” اول تو انسانوں کہ یہاں احسان، مدد، نیکی، سپورٹ جیسے الفاظ ہی نہیں ہوتے کیوں کہ وہ یہ سب کام ایسے کرتے ہیں جیسے خود اپنی ذاتی کوئی پریشانی دور کررہے ہوں ۔ پھر بھی اگر کسی پر احسان کرو تو بدلے میں اُس سے کوئی امید نہ رکھو اگر وہ امید پر پورا اترا تو آپ کو لگے گا میرے احسان کا بدلہ دے رہا اور اگر امید پر پورا نہ اترا تو آپ بے ساختہ کہیں گے ” جس پر احسان کرو اُس کے شر سے بچو ” اسی لیے کہتے ہیں نیکی کر کنویں میں ڈال ” حالانکہ مجھے یہ مثال بھی اچھی نہیں لگتی یہ تو ایسا لگتا ہے جیسے کہا جارہا ہو کہ نیکی کرنا مطلب اپنا اچھا عمل برباد کرنا یا ضایع کرنا ہے۔ اس کی جگہ اگر یہ ہوتا کہ ” نیکی کرو اور بھول جاؤ ” تو زیادہ مناسب ہوتا۔

کچھ لوگ کہتے ہیں کہ کم ظرف پر احسان نہ کرو ہمیشہ دھوکا دیتا ہے۔ میں کہتا ہوں احسان کرنے کے بعد بندے کو آزمایا ہی کیوں جائے یا اپنے احسان کا بدلہ ہی کیوں مانگا جائے کہ وہ کم ظرف ثابت ہو یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ وہ وہ بوجھ اٹھانے کی طاقت ہی نہ رکھتا ہو جو بوجھ احسان کرنے والے اپنے احسان کے بدلے اُس پر ڈال رہا ہو. عالم یہ ہے ایک دن کسی کے کام آتے ہیں تو دوسرے دن اُس کی دکان پر کھڑے ہوکر سامان کم قیمت میں خرید رہے ہوتے ہیں۔ جب اکثر والدین اپنے بچوں سے اپنی مطلب کا کوئی کام کروانا چاہتے ہیں تو اُنہیں پالنے میں آنے والی پریشانیاں گنواتے ہیں جس پر اولاد کا ایک ہی جواب ہوتا ہے ” یہ کام سب ہی والدین کرتے ہیں کیوں کہ یہ فرض ہے آپ لوگوں نے کوئی احسان نہیں کیا ”
میرا کہنا ہے والدین اولاد کی تربیت اچھی کریں تو اس جواب نوبت ہی نہ آئے۔

بہرحال سب پر بھاری مثال ایک ہی ہے جب اُس کا رواج قائم ہوگا تب شر سے بچنے والی مثال ہی ختم ہوجائے گی۔ حکم ہے ” ایک ہاتھ سے ایسے دو کہ دوسرے ہاتھ کو خبر نہ ہو ” اس کا یہ فائدہ ہوگا کہ ایک تو دینے والا خود کو خدا نہیں سمجھے گا اور دوسرا جس ہر احسان کیا اُس کا کوئی عمل آپ کو شر نہیں محسوس ہوگا. نہ کسی کو احسان کر نے کے بعد آزمائش میں ڈالیں نہ آپ کو اُس کے صرف ایک بار کے انکار سے کبھی کوئی تکلیف ہوگی ۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: