نفس کی حقیقت

نفس دراصل ہمارے اندر ایک ایسی نفسانی طاقت کا نام ہے جو ہمیں راہ حق سے لمحہ بھی لمحہ بھٹکاتا رہتا ہے
نفس کا ایک خطرناک وار انسان کو ماضی میں الجھائے رکھنا ہے تاکہ انسان رب کریم کے فیصلوں کا باغی بن جائے۔

جہاں انسان اپنے حال سے بےخبر ماضی کی سوچوں میں گم رہتا ہے۔۔۔ایسا نہ ہوتا تو کتنا اچھا ہوتا یوں ہوجاتا تو کتنا بہترہوتا کی رٹ لگائے رکھتا ہے۔۔۔حالانکہ ماضی میں جو کچھ بھی ہوا اس میں رب کریم کے فیصلوں کی حکمتیں پوشیدہ ہیں جن سے صابر اور شاکر ہی واقف ہیں۔

نفس کا دوسرا خطرناک وار انسان کو مستقبل کے فکروں میں قید کرنا ہے تاکہ انسان اپنے حال سے بےخبر ہوکر رب کے تقدیر سے منہ موڑ لے۔۔۔۔ایسے میں نفس کے ان جال میں پھنسنے والے مایوس ہوکر رہ جاتے ہیں۔۔۔ وہ رب تعالی کی تمام نعمتوں سے خود کو محروم سمجھنےلگتے ہیں اور مستقبل کے فکروں میں ہر وقت غرق رہتے ہیں۔۔۔۔ایسے میں انسان کےپاس سب سے بہترین ڈھال بہترین ہتھیار رب تعالی پر توکل ہے جس سے وہ ماضی کی سوچوں اور مستقبل کے خوف ذدہ فکروں کاسر قلم کرسکتاہے۔۔۔اللہ کی تدبیر بہترین تدبیر ہےپرفیکٹ تدبیر۔۔وہ خامیوں اور کوتاہیوں سے پاک رب ہے۔۔۔اس لیے ماضی میں جو بھی ہوا۔۔۔حال میں جو ہورہا ہے۔۔مستقبل میں وہ جو بھی کرے گا بہترین کرے گاسو ہم خود کو یونہی بےکار کی الجھنوں میں الجھا کر اپنے حال کے نعمتوں کی لذتوں سے محروم کردیتے ہیں۔

اللہ کریم کی تدبیر پر یقین رکھیں بظاہر نظر آنے والے فیصلے ہماری خواہشات کے برعکس ہوتے ہیں مگر یقین رکھیں اسی میں انسان کی کامیابی اور سکون ہے۔۔۔۔سو کیوں نا ہم خود کو ماضی ،حال اور مستقبل کے تمام فکروں سے َآذاد کرکےخود کو اللہ کے حوالے سونپ دیں کیونکہ اللہ کریم جیسی تدبیر اس جیسا رب اس جیسا مالک اور کہیں نہیں۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: