بچھو کی فطرت

جیسا کہ سب کو علم ہے کہ بچھو ایک انتہائی خطرناک جانور ہے جس کے کاٹنے سے انسان کی موت واقع ہو سکتی ہے حضرت شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں “میں نے کسی کتاب میں پڑھا تھا کہ بچھوؤں کی پیدائش عام جانوروں کی طرح نہیں ہوتی۔

اپنی ماں کے پیٹ میں جب یہ کچھ بڑا ہو جاتا ہے تو اندر سے پیٹ کو کاٹنا شروع کر دیتا ہے.اور یوں سوراخ کر کے باہر آ جاتا ہے.”سعدی فرماتے ہیں کہ میں نے یہ بات ایک دانا کے سامنے بیان کی تو انہوں نے فرمایا: میں سمجھتا ہوں کہ بات درست ہی ہو گی ۔ بچھو کی فطرت اور عادت پر غور کیا جائے تو یہ بات سمجھ آتی ہے کہ اس نے اپنی زندگی کے پہلے دن سے برائی ہی کی ہوگی۔ “حضرت سعدی نے اس حکایت میں بچھو کی پیدائش اور فطرت کا حوالہ دے کر بد فطرت لوگوں سے علحیدہ رہنے کی تلقین فرمائی ہے۔جو شخص اپنوں شخص اپنوں سے وفا نہیں کرتا وہ غیر کا کیسے ہو سکتا ہے ۔ دوسری جانب خیبر پختو نخوا کے صوبائی دارالحکومت پشاور کے ایک رہائشی پی ایچ ڈی سکالر صاحبزادہ جواد نے اپنے گھر کی فریج میں تقریباً 700 کے قریب بچھو رکھے ہوئے ہیں، صاحبزادہ جواد دنیا بھر کی طرح بچھوؤں اور ان کے زہر پر تحقیق کر رہے ہیں۔ پی ایچ ڈی سکالر صاحبزادہ جواد کا اس حوالے سے خبر رساں ادارے کے مارننگ شو میں گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ میں نے بچھوؤں کو فریج میں اس لیے رکھا ہے کیونکہ بچھوؤں کا ڈی این اے باہر رکھنے سے محفوظ نہیں رہتا، جو میری تحقیق کا بنیادی عنصر ہے۔ صاحبزادہ جواد کا مزید کہنا تھا کہ میں نے ان تمام بچھوؤں کو اپنے خرچے پر ملک بھر سے اکٹھا کیا ہے۔
اور اکٹھا کرنے کے بعد انہیں میں نے اپنے گھر کے فریج میں رکھا ہے تاکہ جب میں مستقبل میں ان کے مالیکیولر اینالیسسز کرونگا جس سے ہمیں معلوم ہوگا کہ ہمارے پاس ان کی کونسی نسل آ سکتی ہے، یہی وجہ ہے کہ میں نے ان کو فریج میں رکھا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میری تحقیق کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ میں معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ پاکستان میں بچھوؤں کی کون کون سی اقسام پائی جاتی ہیں اور کون سی قسم کس علاقے میں موجود ہوتی ہے، بچھو بہت سی بیماریوں کے علاج میں مفید بھی ثابت ہوئے ہیں۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے صاحبزادہ جواد کا کہنا تھا کہ بچھوؤں کو پکڑنا انتہائی مشکل کام ہے کیوں کہ یہ زیادہ تر رات کے وقت شکار کے لیے اپنی بلوں سے باہر نکلتے ہیں، لیکن ہم مختلف علاقوں کا دورہ کرکے ان کے خلاف معلومات اکٹھی کرتے ہیں اور ان کے ٹھکانوں کو تلاش کر کے پکڑتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی میں بچھو پکڑنے کے لئے کسی بھی علاقے میں جاتا ہوں تو مجھے وہاں پر رہائش اور کھانے پینے کا بہت مسئلہ ہوتا ہے کیونکہ ان کو پکڑنے کے لیے تین سے چار دن درکار ہوتے ہیں، جن علاقوں سے اب تک میں نے بچھو اکٹھے کیے ہیں ان میں چترال اور فاٹا ریجن سرفہرست ہے۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے صاحبزادہ جواد کا کہنا تھا کہ سوئٹزرلینڈ اور اٹلانٹکا کے ریجن کے علاوہ دنیا کے ہر کونے میں بچھوؤں ہمارے ساتھ موجود ہوتے ہیں کیونکہ یہ دو علاقے دنیا کے سب سے زیادہ سرد علاقے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: