بہترین اور سبق آموز واقعہ

حضور اکرمؐ نے اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہؓ کو اپنے ابن عم حضرت علیؓ کے ساتھ رخصت کیا تو جب حضرت فاطمہؓ اپنے شوہر حضرت علیؓ کے گھر میں داخل ہوئیں تو دیکھا کہ حضرت علیؓ کے پاس تو ایک تکیہ، گھڑا اور کوزے کے سوا کچھ بھی نہیں ہے اور زمین پر پتھر کا چورا بچھا ہواہے۔

آنحضرتؐ نے حضرت علیؓ کو پیغام بھیجا کہ جب تک میں نہ آ جاؤں اپنی بیوی کے پاس نہ جانا۔ تھوڑی ہی دیر کے بعد حضور اقدسؐ رونق افروز ہوئے۔ آپؐ نے پانی لانے کا حکم دیا، پانی لایا گیا تو آپؐ نے اس آپؐ نے اس میں کوئی دعا اور ذکر وغیرہ پڑھاجو کچھ پڑھنا اللہ کو منظور تھا،۔

پھر حضرت علیؓ کے چہرے چھڑک دیا، پھر حضرت فاطمہؓ کو بلایا تو و حیا و شرم کے مارے اپنے کپڑوں میں لپٹی ہوئی حاضر خدمت ہوئیں، آپؐ نے ان پر بھی وہ پانی چھڑکا۔ اس کے بعد نبی اکرمؐ نے حضرت فاطمہؓ سے فرمایا: ’’یاد رکھو! میں نے تیرا نکاح ایسے شخص سے کیاہے جو مجھے اپنے خاندان میں سب سے زیادہ محبوب ہے۔ پھر حضورِ اقدسؐ، حضرت علیؓ کو یہ فرماتے ہوئے واپس تشریف لے گئے کہ اپنی اہلیہ کو لو۔ اور ان دونوں کے لیے دعائیں کرتے رہے یہاں تک کہ حجرہ سے باہر آ گئے۔

میں نے قرآن میں نوے جگہوں پر پڑھا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر بندے کی تقدیر میں رزق لکھ دیا ہے اور اسے اس بات کی ضمانت دے دی ہے اور میں نے قرآن شریف میں صرف ایک مقام پر پڑھا کہ شیطان تمہیں مفلسی سے ڈراتا ہے۔ ہم نے سچے رب کا نوے مقامات پر کئے ہوئے وعدے پر تو شک کیا مگر جھوٹے شیطان کی صرف ایک مقام پر کہی ہوئی بات کو سچ جانا۔ ابن قیمؒ کہتے ہیں اگر اللہ تعالیٰ پردے ہٹا کر بندے کو دکھا دے کہ وہ اپنے کہ وہ اپنے بندے کے معاملات سدھارنے کیلئے کیسی کیسی تدبیریں کرتا ہے اور وہ اپنے بندے کی مصلحتوں کی کیسی کیسی حفاظتیں کرتا ہے ۔

اور وہ کس طرح اپنے بندے کیلئے اس کی ماں سے بھی زیادہ شفیق ہے تو کہیں جا کر بندے کا دل اللہ کی محبت سے سرشار ہوگا اور تب کہیں جا کر بندہ اپنا دل اللہ کیلئے قربان کرنے پر کمر بستہ ہوگا۔ تو پھراگر تمہیں غموں نے تھکا دیا ہے تو کوئی غم نہ کریں ہو سکتا ہے اللہ تمہاری دعاؤں کی آواز سننے کا خواہاں ہو تو پھر اپنے سر کو سجدے میں رکھئے اور کہہ دیجئے اپنے رب سے اے میرے رب ”میرا دل بدل دے“

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: