آپ ﷺ نے فرمایا یہ دعا میری امت کے ہر بندے یاد ہونی چاہیے

دعاؤں کی قبولیت کے لئے حضرت یونس ؑ کی اس دعا کو ہمیشہ اہمیت حاصل رہی ہے جو آپؑ نے مچھلی کے پیٹ میں قید رہتے ہوئے کی۔ اس بارے میں حدیث مبارکہ ہے کہ رسول اکرمﷺ نے اپنے صحابہ سے فرمایا’’ کیا تمہیں اسم اعظم کی راہنمائی کروں کہ اس کے ذریعے اللہ تعالی کو پکارنے سے دعا مستجاب ہوجاتی ہے ۔

اور وہ دعا جناب یونسؑ کی دعا ہے جس نے تاریکیوں میں آواز دی ’’ لا الٰہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین ‘‘یہ دعا صالحین نے ہمیشہ یاد رکھی اور تسبیحات کا معمول رکھی،اولیاء کریم،فقرا وعارفین نے اسکے اذکار سے منازل عشق طے کیں۔اس دعا کا سبب کیا تھا ؟ واقعہ یوں ہے کہ حضرت یونس ؑ نے ایک طویل عرصے تک لوگوں کو توحید کی طرف دعوت دی لیکن لوگ صحیح راستے پر نہ آئے بلکہ اپنے کفر پر ضد کرتے رہے تو وہ قوم کی بے ایمانی سے عاجز آکر ناراض ہوکر آبادی سے باہر نکل گئے اور

قوم کو عذاب کے حوالے کردیا تھا تو خدا نے انہیں کشتی کے ذریعہ مچھلی کے شکم تک پہنچادیا۔ اس دعا کے شان نزول کو سمجھتے ہوئے مصائب اور روزمرہ زندگی میں ہونے والی خطاؤں کی وجہ سے یہ آیت کریمہ پڑھتے رہنی چاہئے ۔اس میں بھلائی اور ترقی کی ضمانت ہے راستے کی ہر رکاوٹ بھی دور جاتی ہے۔ حضرت یونس کو مچھلی کے پیٹ کی قید میں رہنا پڑا تو انہوں نے اس ترک اولی کا اعتراف کر کے توبہ کی کہ مجھے قوم کو لاوارث نہیں چھوڑنا چاہئے تھا اگر میں ایسا نہ کرتا تو خدا مجھے مچھلی کے حوالہ نہ کرتا۔ آپ ؑ نے مچھلی

کے شکم کی تاریکیوں میں آواز دی ’’پروردگار ! تیرے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے تو پاک و بے نیاز ہے اور میں اپنے نفس پر ظلم کرنے والوں میں سے تھا ‘‘ تو اللہ نے ان کی دعا کو قبول کرلیا اور انہیں غم سے نجات دے دی اور حضرت یونس ؑ قوم کے پاس پلٹ گئے اور قوم بھی جناب یونس کے گرد جمع ہوکر راہ توحید پر گامزن ہوگئی۔اللہ تعا لیٰ کی معجز نما آیت ہے جو بے پناہ برکتوں والی ہے ۔ آئیے اس آیت کی برکتوں کے خزانوں پر نظر ڈالتے ہیں جن کو ہماری ظاہری آ نکھ دیکھ سکتی ہے اور مخفی پروردگار عالم خبیر جانتا ہےحضرت حبیب بن

مَسلَمہ فَہریؓ مستجابُ الدعوات صحابی تھے، انھیں ایک لشکر کا امیر بنایا گیا۔ انھوں نے ملکِ روم جانے کے راستے تیار کرائے۔ جب دشمن کا سامنا ہوا تو انھوں نے لوگوں سے کہا: میں نے حضورﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو جماعت ایک جگہ جمع ہو اور ان میں سے ایک دعا کرائے باقی سب آمین کہیں، تو اللہ تعالیٰ ان کی دعا ضرور قبول فرمائیں گے۔مجلس کے اختتام پر اجتماعی دعا ثابت ہے اور یہ قبول ہوجاتی ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: