کونسی عورت خوش نصیب ؟

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ سے یہ پوچھا گیا کہ کون عورت بہتر ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : وہ عورت کہ شوہر اسے دیکھے تو وہ اسے خوش کر دے ، جب کوئی کام کہے تو اس کی اطاعت کرے اور اپنی عزت کی حفاظت کرے ۔

اور اس کی مرضی کے خلاف مال خرچ نہ کرے ۔ (مشکوٰت ص ) مطلب یہ ہے کہ ایسی خوش مزاج اور خوش اخلاق ہو کہ شوہر جب گھر میں آئے ، پیوی سے ملاقات و گفتگو کرے تو اس سے نرمی سے ، پیار و محبت سے ، مسکراتے ہوئے بات کرے ۔ اگر وہ پریشان و رنجیدہ بھی آئے تو اسے حسن پرتاؤ و حسن اخلاق سے خوش کردے ۔ ایسا نہ ہو کہ منہ بنا کر پیٹھی رہے ۔ شوہر پوچھے تو شکایتوں کے انبار لگادے ۔ چنگاری کو آگ بناکر پیش کردے ۔ رائی کے دانہ کو پہاڑ بناکردکھائے ۔ مبالغہ آرائی، جھوٹ اور بدگمانی کی بنیادی پراِدھر ادھر کی لگا کر اس کے ذہن کو پریشان کردے ۔

چنانچہ بعض عورتیں ایسی ہوتی ہیں کہ جہاں شوہر گھر میں داخل ہوا ، شکایتوں کا انبار اس کے سامنےلا کھڑا کردیا ۔ تمہارےی ماں نے ایسا کیا ۔، بھائی نے یہ معاملہ کیا، بھاوج نے اس طرح ظلم کیا ۔ چنانچہ عورت کی میٹھی چال سے شوہر متاثر ہو جاتااور ماں ، بہن کا مخالف ہو کرلرائی اور جھگڑے کا ایک طورمار سلسلہ قائم کردیتا ہے ۔ ایسی عورت شوہر کو خوش کرنے والی نہیں ۔

اسے جہنم میں ڈالنے والی ہے کہ اس نے اسے خوش کرنے کے بجائے رنجیدہ کردیا۔ سو، سنو! اسے خوش اخلاقی اور اپنی پیاری گفتگو سے خوش کرو ۔ شکایت سناکر رنجیدہ نہ کرو اور جھگڑا مت کراؤ۔ اللہ کے نزدیک اچھی اور بھلی کہلاؤ گی اور جنت پاؤ گی ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: