آپ ﷺ نے ایسا کیوں فرمایا کہ اکیلے جینا سیکھو

اکیلے رہنا ،اکیلے لڑنا ،اکیلے جینا سیکھو دنیا کسی کی نہیں ہے ۔ منافقت کی ہمدردی دشمن کی ت ل و ا ر سے زیادہ خطرناک ہے۔ ہر شخص سچا دوست تلاش کرتا ہے مگر خود سچا دوست بننے کی کوشش کوئی نہیں کرتا۔ میں نے غلطی کی اس پاک رب نے پردہ ڈالا میں نے سجدہ کیا اس پاک رب نے تھام لیا۔ دوسروں کے ساتھ زیادہ تو وہ نیک سلوک کرتے ہیں جو خود بھی مشکل وقت گزار چکے ہیں۔

سب سے اچھی زندگی وہ بسر کرتے ہیں جو اپنی ضرورت پوری کرنے کے لئے پیارے رب کے سوا کسی اور پر بھروسہ نہیں کرتے۔ یاد رکھو برائی ہنستی ہوئی آتی ہے اور نیکی روتی ہوئی جاتی ہے ۔ اخلاق وہ چیز ہے جس کی کوئی قیمت نہیں دینی پڑتی ہاں مگر اس سے ہر انسان خریدا جاسکتا ہے۔ بد دعا صرف اخلاق نہیں ہوتے جس کو دکھ دو اس کی آہ بھی بددعا بن جاتی ہے، اور اللہ پاک بہت انصاف کرنے والا ہے۔ بانٹنے سے خوشیاں اس طرح بڑھتی ہیں جس طرح زمین میں بویا ہوا بیج پوری فصل بن جاتا ہے۔کبھی کبھی شکایت کرنے سے بہترہے کہ انسان خاموش رہے کیونکہ جب فرق نہیں پڑتا تو شکایت بھی کیسی؟

کسی کے ساتھ غلط کر کے اپنی باری کا انتظار ضرور کرنا۔زندگی کبھی کسی کو مفت میں کچھ نہیں سیکھاتی جب کوئی کہتا ہے مجھے زندگی نے یہ سکھایا تو یقین کریں اس نے اس کی بہت بڑی قیمت ادا کی ہوگی۔تین چیزیں یاد رکھو :موت ، احسان ،نصیحت۔جواللہ پاک کے دیئے ہوئے رزق کو کافی سمجھے وہ زندگی میں کبھی کسی کا محتاج نہیں ہوتا۔بدزبانی بدکلامی اور فحش گوئی سے آپ نہ صرف اپنا وقار تباہ کرتے ہیں بلکہ ان لوگوں کی بھی توہین کرتے ہیں جنہوں نے آپ کی تربیت کی ۔

اللہ پاک آپ سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے ۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اللہ تعالیٰ نے رحمت کے سو حصے بنائے ہیں جن میں سے اُس نے ننانوے حصے اپنے پاس رکھ لئے اور ایک حصہ زمین پر نازل کیا۔ ساری مخلوق جو ایک دوسرے پر رحم کرتی ہے یہ اُسی ایک حصے کی وجہ سے ہے، یہاں تک کہ گھوڑا جو اپنے بچے کے اُوپر سے اپنا پاؤں اُٹھاتا ہے کہ کہیں اُسے تکلیف نہ پہنچے وہ بھی اسی ایک حصے کے باعث ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے

کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے پاس سو رحمتیں ہیں اُس نے اُن میں سے ایک رحمت جن، انس، حیوانات اور حشرات الارض کے درمیان نازل کی ہے جس کی وجہ سے وہ ایک دوسرے پر شفقت و رحم کرتے ہیں، اور اُسی سے وحشی جانور اپنے بچوں سے محبت کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ننانوے رحمتیں (اپنے پاس) محفوظ رکھی ہیں، جن کے سبب قیامت کے دن وہ اپنے بندوں پر رحم فرمائے گا۔

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے سو رحمتوں کو پیدا کیا جن میں سے ایک رحمت کو اُس نے ساری مخلوق کے درمیان تقسیم کر دیا اور ننانوے کو قیامت کے دن تک کے لئے محفوظ کر لیا۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: