عورتیں جہنمی کیوں؟

نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا
میں نے جنت میں دیکھا تو کثیر تعداد میں فقراء کو دیکھا اور جب دوزخ میں دیکھا تو وہاں کثیر تعداد میں مالدار اور عورتیں موجود تھیں۔

دل دہلا دینے والی حدیث مبارکہ۔۔۔۔
اگر ہمیں بتا دیا جائے کہ ابھی کچھ دنوں بعد طوفان آئے گا تو سب اپنے اپنے بچاؤ کی تیاریاں شروع کر دیں گے کسی طریقے میری بچت ہو جائے میں بچ جاؤں۔اسی طرح اس حدیث کو سننے کے بعد یہ سوچنا ہمارا فرض بن جاتا ہے کہ ایسا کون سا کام ہے جو عورتوں کو جہنم میں لے جائے گا؟

ایسے کیسے ہو سکتا ہے کہ آخرت میں نیک لوگ (اچھے اعمال کرنے والے) اور برے اعمال کرنے والے لوگ اللہ جو کے سب سے زیادہ انصاف کرنے والا ہے ان دونوں کو ایک ہی ترازو میں رکھے گا ؟
ایک مومن کو اور ایک منافق کو برابر کر دے ؟
اپنے نافرمان کو اور فرمانبرداری کو برابر کر دے ؟
ایسا ہرگز نہیں ہوگا اس غلط فہمی سے نکل آئیں۔
*خبردار ہو جائیں.

دنیا ایک مستقل ٹھکانہ نہیں ہے مستقل ٹھکانہ یا تو جنت ہے یا جہنم۔۔۔۔۔اب یہ آپ کی مرضی ہے کہ آپ کس کی فکر کرتی ہیں ؟
یاد رکھیں تب نا موت آئے گی نا ہی وہ زندگی کبھی ختم ہو گی۔ انسان پکار اٹھے گا اور کہے گا کہ اے اللہ ہمے موت ہی دے دے اور تب موت بھی نہیں آئے گی۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا… “اے عورتو ! صدقہ کیا کرو اور بہت زیادہ استغفار کیا کرو۔ بلاشبہ میں نے جہنم کی کثرت تمہاری ہی دیکھی ہے۔” ایک اور حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں عورتیں کم تعداد میں ہوں گی۔
ہمارے لیے کتنی پریشانی کی بات ہے۔اس دن کامیاب وہی ہے جو انسان اس دن جہنم سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا وہی کامیاب ہے۔
لیکن یاد رکھیں بار بار یاد کریں ۔۔۔۔
یہ دنیا دھوکے کا سامان ہے بار بار تمہے دھوکا دے گی سوچ کو اس طرف آنے ہی نہیں دے گی۔
دنیا کی فکر چھوڑ دیں۔ رزق اللہ رب العزت نے لکھ دیا ہے وہ مل کر ہی رہنا ہے۔ جو پریشانی اللہ رب العزت نے بھیجی ہے ختم بھی وہ اسے کر دے گا۔بس جو چیز ہمارے مقدر میں نہیں ہے ہماری آخرت اس کی فکر کرنا شروع کر دیں۔ حقیقی کامیابی اسی میں ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: