انوکھا شکاری

یہ ایک بہت پرانے زمانے کا ذکر ہے۔ ایک تھا شکاری، لیکن، وہ دوسرے شکاریوں کی طرح نہیں تھا۔ اس نے اپنی پوری زندگی میں کسی جانور کو نہیں مارا تھا۔

وہ کسی جان دار کو مارنے کے لیے ہاتھ اٹھا ہی نہیں سکتا تھا۔ بس اس کے پاس ایک جال تھا اور ایک بانسری، جس پر وہ بہت سریلی دھنیں بجایا کرتا تھا۔

وہ روزانہ جنگل میں جاتا، جال بچھاتا اور جال سے کچھ دور جا کر بانسری بجانے لگتا۔ اس کی بانسری کی دل کش آواز سن کر پرندے اڑے چلے آتے۔ وہ انتظار کرتا۔ اور جیسے ہی کوئی پرندہ اس کے جال کے پاس آتا، وہ رسی کھینچ کر اسے جال میں بند کر لیتا، پھر وہ اس پرندے کو دانہ کھلاتا، ان کا خیال رکھتا اور ان کی پیاری پیاری آوازیں سنتا۔ جب کبھی اسے پیسوں کی ضرورت پڑتی تو وہ ان میں سے دو تین پرندے بیچ دیتا۔ پرندوں کے اس شکاری کا ایک بیٹا تھا، جس کا نام بہزاد تھا۔ بہزاد ابھی چھوٹا ہی تھا کہ شکاری بیمار پڑا اور اس کا انتقال ہو گیا۔ بہزاد اور اس کی امی کے پاس جو پیسے تھے، وہ جلد ہی ختم ہو گئے اور ان کے پاس کھانے کو کچھ نہ رہا۔ زندگی بڑی مشکل سے گزرنے لگی۔ بہزاد چھوٹا تھا، مگر بہت ہمت اور صبر والا تھا۔ کام کاج میں اپنی امی کی مدد کرتا اور جو وقت ملتا، اس میں وہ جنگل چلا جاتا، جہاں اس کے ابو پرندے پکڑا کرتے تھے۔ آخر ایک روز اس نے اپنی ماں سے کہا: “امی اب میں بچہ نہیں رہا۔ پندرہ سال کا ہو گیا ہوں۔ ابو کے بعد آپ نے بہت محنت کی ہے۔ اب آپ مجھے ابو کا جال اور بانسری لا دیجئے۔ کل سے میں بھی جنگل جا کر پرندے پکڑا کروں گا۔”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: