زبیدہ خاتون کا تقوی

ہارون الرشید کی بیوی زبیدہ خاتون بڑی نیک اور دین دار ملکہ تھی اس کو قرآن پاک سے اس قدر محبت تھی کہ اس نے اپنے گھر میں تین سو حافظات تنخواہ پہ رکھی ہو ئی تھی.

اس نے ان کی شفٹس بنائی ہوئی تھی ہر شفٹ میں سو حفظا تھے ان حافظات کو محل کے مختلف کو نوں بر آمدوں کمروں میں بٹھا دیا جا تا تھا اور ان کا کام اپنے شفٹ میں بیٹھ کر بس قرآن مجید پڑھنا ہوتا تھا اس طرح ہر وقت محل میں سو حافظات کے قرت کی آواز آتی تھی۔

یہی وہ زبیدہ خاتون ہے جن کو جب پتہ چلا کہ جب لوگ سفر پہ جاتے ہیں تو ان کو راستے میں پانی نہیں ملتا تو آپ بے چین ہو ئی ہر بیوی اپنے خاوند سے کوئی نہ کوئی فر ما ئش کر تی رہتی ہے زبیدہ خاتون نے اپنے شوہر ہارون الرشید سے اسی نہر کی فر ما ئش کی کہ میرے دل کی ایک تمنا ہے کہ آپ نہر بنوائے جو میدان عرفات تک پہنچے تا کہ حاجیوں کو اس سے پانی ملتا رہے شوہر نے اپنی ملکہ کو مکمل اختیار دیا کہ اس نہر پہ جتنا مال خرچ ہو سکتا ہے کر لیں۔

یوں ایک اعظیم الشان نہر بن گئی جس سے کروڑوں انسانوں پر ندوں اور چرندوں نے فائدہ اٹھا یا کہتے ہیں جب زبیدہ کا انتقال ہوا تو اسکا دیدار لوگوں کو نصیب ہوا کسی نے زبیدہ سے پوچھا کہ اللہ نے تیرے ساتھ کیا ما جرہ کیا تو زبیدہ نے کہا کہ بس اللہ نے مجھ پہ رحمت کی اس نے کہا زبیدہ تیرے تو کام ہی اتنے بڑے تھے لوگوں کے لیے نہر بنوائی تو بخشش تو ہونی ہی تھی زبیدہ نے کہا کہ میری بخشش نہر کی وجہ سے نہیں جب میرا نہر والا عمل اللہ پاک کے سامنے پیش کیا گیا۔

تو اللہ پاک نے فر ما یا کہ تو نے تو نہر اس لیے بنوائی کہ تیرے پاس مال و دولت تھی بیت المال کی اگر بیت المال نہیں ہوتا تو تم یہ نہر بنو ا سکتی تھی یہ کوئی ایسا اہم کام نہیں جس سے تیری بخشش ہو جائے تو مجھے بتا ؤ تم نے میرے لیے کو نسا عمل کیا؟ زبیدہ خاتون کہتی ہے کہ یہ سن کر میں ڈر گئی کہ میرے پاس تو ایسا کوئی عمل نہ تھا اس گھبراہٹ میں اللہ پاک میری طرف متوجہ ہوئے سارے اعمال میں بس ایک ہی ایسا عمل ہے جو تو نے صرف میرے لیے کیا ہے۔

ایک بار جب تم کو بھوک لگی تھی اور کھا نا کھا رہی تھی منہ میں لقمہ ڈالنے سے پہلے اذان کی آواز تیرے کانوں میں آئی اس وقت تمہارے سر پہ دوپٹہ ٹھیک نہیں تھا آدھا سر ننگا تھا اس وقت تیرے دل میں خیال آیا کہ اللہ کا نام بلند ہو رہا ہے۔

اور میرا سر ننگا ہے تم نے اپنی بھوک کی پرواہ نہ کی لقمہ نیچے رکھا اور اپنا ڈوپٹہ ٹھیک کر لیا اور پھر کھا نا شروع کیا تو نے لقمے میں جو تا خیر کی وہ میرے نام کے اداب کی وجہ سے تھی پس تیرے مغفرت کی وجہ یہی ہے اللہ پاک اعمال کا چھوٹا بڑا ہو نا نہیں دیکھتا لا کھوں روپوں کے زکوٰۃ اور خیرات کو نہیں دیکھتا وہ تو دل میں چھپے تقویٰ کو دیکھتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: