یہ گناہ آپ تو نہیں کرتے

کیا کوئی ایسا گ۔ناہ بھی ہے جس کی کوئی معافی نہیں ہوسکتی ہے ۔ایسا کوئی گ۔ناہ نہیں ہے جس کی معافی نہ ہوسکتی ہوہرگ۔ناہ کی معافی توبہ اور استغفا رسے ہوسکتی ہے بس توبہ سچے دل سے کرنی چاہیے اور اگر حقوق العباد ہیں تو پھر وہ توبہ سے معاف نہیں ہوں گے۔

جن لوگوں کے حق ہیں ان کو ادا کرنا پڑے گا یا پھر ان سے معاف کروالیں ۔ ۔کیا ایسے بنک سے گاڑی قسطوں پر لینا جائز ہے جو سود مقرر کرتے ہیں۔ ایسے بینک سے گاڑی قسطوں پر لینا بالکل ناجائز ہے جو سود مقرر کریں۔اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ پا ک دین کا علم عطاء فرمائے اور جتنا علم ہمارے پاس ہے اس پر صحیح معنوں میں عمل کرنے کی توفیق عطاء فرمائے اور دوسروں تک پہنچانے کی بھی توفیق عطاء فرمائے ۔

کفر اور شرک کے علاوہ جتنے کبیرہ گ۔ناہ ہیں، وہ سب توبہ سے معاف ہوسکتے ہیں بشرطیکہ توبہ سچی توبہ ہو ،سچی توبہ کا مطلب یہ ہے کہ دل سے پشیمانی ہو، اس گ۔ناہ کو فوراً ترک کردیا جائے اور آئندہ نہ کرنے کا پختہ عزم ہو، اور اگر اس گ۔ناہ کی وجہ سے کسی کی حق تلفی ہوئی ہو تو اس کی ادائیگی یا تلافی کی کوشش شروع کردی جائے۔ یعنی اگر حقوق اللہ (نماز ،روزہ ،زکوۃ ،حج وغیرہ) ذمہ پرہیں، تو انہیں ادا کرنا شروع کردے۔ اور اگر حقوق العباد میں کوتاہی کی ہو تو صاحبِ حق کو اس کا حق ادا کرے یا اس سے معاف کروالے، بندے کا حق اس کے معاف کیے بغیر معاف نہیں ہوسکتا، حقوق العباد سے متعلق گ۔ناہوں سے توبہ کی تکمیل کے لیے یہ ضروری شرط ہے۔

اللہ تعالیٰ کی رحمت ہر چیز سے وسیع ہے، وہ کسی کو بے شمار گ۔ناہوں کے باوجود بھی معاف کرکے جنت میں داخل کرسکتاہے، اور اس میں وہ حق بجانب ہوگا، تاہم یہ بھی ملحوظ رہے کہ رحمت اور معافی کی امید پر۔ گ۔ناہوں میں مبتلا ہونا عقل مندی نہیں، حماقت ہے، حدیث پاک میں ایسے شخص کو بے وقوف کہا گیا ہے جو خواہشِ نفس کی پیروی کرے اور اللہ تعالیٰ سے امیدیں اور آرزو لگائے رکھے کہ وہ کریم ہے معاف کردے گا۔

جب کہ عقل مند اس شخص کو قرار دیا گیا ہے جو اپنے نفس کو قابو میں رکھے اور آخرت کی تیاری کرے۔ مسلمان کی شان یہ ہے کہ جس کام سے اللہ تعالیٰ یا رسول اللہ ﷺ نے ناراضی کا اظہار فرمادیا، اس کام کے قریب بھی نہ جائے۔ فقط واللہ اعلم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: