افلطون نےکیا فلسفہ سیکھا

ایک دن افلاطون اپنے شاگردوں کو دورے پر لے گیا وہ سبز رنگ کے پہاڑوں میں اور میدانی علاقوں میں گھومے اور افلاطون سے فلسفہ سیکھا۔ وہ آرام کرنے اور کھانا کھانے کے لیے ایک جگہ پر بیٹھ گئے ایک مچھر افلاطون کو کھانا کھاتے ہوئے تکلیف دے رہا تھا وہ مسلسل کھانے پر بیٹھ جاتا تھا۔

افلاطون نے اپنا کچھ کھانا مچھر کے سامنے رکھا ،مچھر نے اس میں سےتھوڑا چوسا افلاطون نے اپنے شاگردوں کو مچھر پر نظر رکھنے کا کہا افلاطون کے کہنے پر ایک شاگرد جس کے ہاتھ پر تھوڑا زخم تھا ، اس نے اپنی ہتھیلی مچھر کے قریب کی مچھر وہاں سے اٹھ کر اس کے زخم پر آ بیٹھا اور خون چوسنے لگا اب افلاطون نے مچھر کے قریب ہی ایک بوسیدہ سیب رکھ دیا ، مچھر زخم چھوڑ کر سیب کے کٹے حصے پر بیٹھ گیا اور چوسنے اور کھانے لگا ۔

اسی جگہ ، ایک درخت کے تنے میں ، ایک مکڑی نے جال باندھا ہوا تھا مچھر سیب سے اٹھا اور اڑتے ہوئے جا رہا تھا کہ مکڑی کے جال میں پھنس گیا جالا ہلنے پر مکڑی آئی اور اپنے شکار یعنی مچھر پر جال مضبوط کر دیا افلاطون نے اپنے شاگردوں سے کہا : “دیکھو ، مکڑی سب سے زیادہ کمزوراور صبر کرنے والا کیڑا ہے وہ اپنے شکار کے لیے جال بچھا کر پورا دن انتظار کرتا ہے اور کبھی کبھی کئی دن تک اور جب وہ شکار کرتا ہے تو اسے اسے کئی دِنوں تک آہستہ سے استعمال کرتا ہے وہ لالچی نہیں ہے.

لیکن آپ نے مچھر کو دیکھا ، یہ لالچی ہے اور اس کے پاس صبر نہیں ہے،جب وہ خون پر بیٹھا ہوا تھا تو آپ نے دیکھا کہ وہ جلدی سے دوبارہ کھانے پر بیٹھنا چاہتا تھا کیونکہ وہ کبھی بھوک نہیں جھٹک سکتا ۔ ” انسان کی بہت ساری پریشانیاں اس کے لالچ اور اسراف کا نتیجہ ہیں وہ لوگ جو برائی کی عادت میں مشغول ہوتے ہیں برائیوں پر جاتے ہیں مگر اچانک موت کا جال انھیں پکڑ لیتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: