لوگوں کی پہچان کے بارے میں

حضرت امام مالک رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں اللہ تعالی کی اطاعت کا حکم دو اور اس کی نافرمانی سے لوگوں کو روکو مسجد میں منافقوں کی حالت ویسی ہی ہوتی ہے جیسے کہ پنجرے میں چڑیوں کی یعنی دروازہ کھلے ہی اڑ جاتی ہے ۔

زیادہ مت ہنسو زیادہ ہنسنا بیوقوفی کی علامت ہے ۔ حد سے زیادہ مزاح نہ کرو اس سے ذلیل ہو جاؤ گے جس کام سے تم دوسرے لوگوں کو روک رہے ہو اسے خود بھی نہ کرو ۔ لوگوں کے پاس اپنی ضرورتیں کم لے کر جایا کرو کیونکہ اس میں ذلت اور رسوائی ہے اپنے گھر والوں اور ان لوگوں سے جو تمہاری عزت کرتے ہیں خوش خلقی سے پیش آیا کرو ظالم کا ہاتھ پکڑ لو اور اسے ظلم کرنے سے روکو

جو شخص اس لئے مظلوم کے ساتھ چلتا ہے کہ وہ اسے اس کا حق دلوائے اسے الله تعالیٰ اس دن ثابت قدم رکھے جس دن قدم پھسلیں گے صرف رضا الہی کے لیے نیک اعمال کی لگن رکھو جب رضائے الہی کے لیے کوئی کلام کرو تو اسے بہتر انداز میں کرو ناپسندیدہ باتوں سے چشم پوشی اختیار کرو اور بردباری سے کام لو اللہ کی اطاعت میں اگر لوگوں کی نافرمانی ہو جائے تو کوئی بات نہیں لیکن لوگوں کی اطاعت میں اللہ کی نافرمانی ہر گز نہیں ہونی چاہیے

السلام علیکم کو خوب رواج دو اگر چاہتے ہو کہ اللہ تعالی تم سے خوش رہے تو یہ تین کام کر لو اللہ کی نافرمانی سے بچو اچھی رائے دو اور اچھی گفتگو کرو میانہ روی اختیار کرو
تین قسم کے لوگوں سے دوری اختیار کرو پست خیال آوارہ مزاج اور فحش خیال کیونکہ یہ نا تو خود کامیاب ہوتے ہیں اور نہ ہی کسی دوسرے کو کامیاب ہونے دیتے ہیں ۔ جس شخص نے تجھے راز دار بنایا وہ شخص کا راز کبھی افشا مت کر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: