جو صبح کی نماز کے لیے نہیں اٹھ پاتے

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اپنی زبان کو یوں محفوظ رکھو جس طرح سونا اور چاندی کو محفوظ رکھتے ہو۔ تمہاری زبان وہی بات کرے گی۔ جس کا تم نے اسے عادی بنایا ہے۔نیک انسان کی زبان ہمیشہ یاد خداوندی میں مشغول رہتی ہے۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا: میں بہت کوشش کرتا ہوں، کہ صبح نماز پڑھوں مگر اٹھا نہیں جاتا؟ توحضرت علی نے فرمایا: یہ نیند کی وجہ نہیں بلکہ تم جو سارا دن گن اہ کرتے ہو، وہ تمہاری گردن میں طوق ہاتھوں میں ہتھکڑی اور پاؤں میں بیڑیاں باندھ کر تمہیں اٹھنے نہیں دیتا۔ تمہارا بہترین بھائی و ہ ہے جس کے مرنے کے بعد تمہارا جینا محال ہو، اور اس کے بغیر زندگی وبال ہوجائے۔ زندگی کا زیادہ ہونا انسان کے لیے ایک قسم کاعذاب ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کسی انسان سے محبت کرتا ہے۔

تو اسے یہ توفیق بخشتا ہے۔ کہ وہ زمانہ کہ واقعات سے عبرت حاصل کرے۔ زمانے سے تجربات حاصل ہوتے ہیں۔ اور دوستی نہایت قریبی رشتہ ہے۔ زینت اعمال کی درستگی کا نام ہے نہ کہ کپڑوں کی خوبصورتی کا ۔ زہد دین کی جڑ ہے۔ اور سچائی پرہیز گاروں کا لباس ہے۔ بے صبری کرنے پر کسی قسم کا اجر وثواب نہیں ملتا۔ جس کے پا س کوئی عمل خیر نہیں اس کےلیے کچھ ثواب نہیں۔ اپنی آخرت کی اصلاح کی کوشش کرو اور جہاد کو لازم پکڑو۔

اگر تم جہاد میں دنیا کی تلوار کے خوف سے بھاگ جاؤ، توآخرت کی تلوار سے کبھی بچ نہیں سکو گے۔ جب کبھی تمہیں اپنے رزق میں کمی نظر آنے لگے ، تو کچھ مال اللہ تعالیٰ کو دے کر اللہ تعالیٰ کے ساتھ تجارت کرلیا کرو۔ علم کے ساتھ نفس سے جہاد کرنا عقلمندی کی نشانی ہے۔ جلد بازی میں ندامت اور اطمینان میں سلامتی ہے۔ رات اور دن عمروں کو فناء کرنے میں جلدی کررہے ہیں۔ جھوٹ سے بچو بلاشبہ یہ ایمان سے دور کرنے والا ہے۔ جھوٹ سے آخرت میں جہنم کا ع ذاب حاصل ہوتا ہے۔ جایل کو جب بھی عمدہ نعمت ملتی ہے۔ تو وہ اس سے خرابی اور برائی میں ترقی کرتا ہے۔

اب آپ کو کچھ دل چیر دینے والے اقوال بتاتے ہیں۔ دل کے اچھے ہونےسے پہلے آپ کو زبان کا اچھا ہونا ضروری ہے کیونکہ لوگوں کا پہلے آپ کی زبان سے واسطہ پڑتا ہے ، دل تک تو کچھ خاص لوگ ہی پہنچتے ہیں۔ آنسوں بہانے سے کوئی اپنا نہیں ہوتا جواپنے ہوتے ہیں وہ رونے کہاں دیتے ہیں۔ کتنی اہمیت ہوتی ہے سننےوالوں میں ، کتنا اختیار ہوتاہے بولنے والوں کا اور کتنی بے بسی ہوتی ہے۔

سہنے والوں کی۔ معلوم سب کو ہے کہ زندگی بے حال ہے پھر بھی پوچھتے ہیں کیا حال ہے۔ آپ کتنے ٹوٹے ہوئے ہیں یہ کوئی بڑی بات نہیں آپ نے خود کو کتنا سنبھالا ہوا ہےیہ بڑی بات ہے۔ یہ جو لوگ ساتھ بیٹھ کے ہنستے ہیں وہ ہی تو سانپ کی طرح ڈستے ہیں ۔ منافق لوگوں سے وہ کتا بہتر ہے جو منہ پر بھونکتا ہے پیٹھ پیچھے نہیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: