ڈپریشن کا شکار معاشرہ

ایک 55 سالہ شخص ڈِپریشن کا شکار تھا، اس کی بیوی نے ایک ماہر نفسیات سے ملاقات کی، بیوی نے کہا کہ میرا خاوِند شدید ڈِپریشن میں ہے براہ کرم مدد کریں.

ڈاکٹر نے اپنی مشاورت شروع کی، اس نے کچھ ذاتی باتیں پوچھی اور اُس کی بیوی کو باہر بیٹھنے کو کہا
صاحب بولے! میں بہت پریشان ہوں، دراصل میں پریشانیوں سے مغلُوب ہوں، ملازمت کا دباؤ، بچوں کی تعلیم اور ملازمت کا تناؤ، ہوم لون، کار لون، مجھے کچھ پسند نہیں دنیا مجھے پاگل سمجھتی ہے لیکن میرے پاس اتنا سامان نہیں جتنا کہ ایک کارتوس میں گولِیاں،میں بہت اُداس اور پریشان ہوں.

یہ کہہ کر اس نے اپنی پوری زندگی کی کتاب ڈاکٹر کے سامنے کھول دی۔ پھرڈاکٹر نے کچھ سوچا اور پوچھا کہ آپ نے دسویں جماعت کس اِسکول میں پڑھی؟ اُس شخص نے اسے اِسکول کا نام بتایا،ڈاکٹر نے کہا! آپ کو اس اِسکول میں جانا ہے پہر اپنے اسکول سے آپ کو اپنی دسویں کلاس کا رجسٹر تلاش کرنا ہے اور اپنے ساتھیوں کے نام تلاش کرنے ہیں اور ان کی موجودہ خیریت کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرنی ھے، ایک ڈائری میں تمام معلومات لکھیں اور ایک مہینے کے بعد مجھ سے ملیں

وہ شخص اپنے اسکول گیا، رجسٹر ڈھونڈنے میں کامیاب رہا، اور اسے کاپی کروایا،اس میں 120 نام تھے،اس نے ایک مہینے میں دن رات کوشش کی لیکن وہ بمشکل 75 ہم جماعتوں کے بارے میں معلومات جمع کرنے میں کامیاب رہا

حیرت !!!
ان میں سے 20 مر چُکے تھے, 7 رنڈوے اور 13 طلاق یافتہ تھے, 10 ایسے نکلے جو کہ بات کرنے کے قابل بھی نہیں تھے,5 اتنے غریب نکلے کہ کوئی ان کا جواب نہ دے سکا, 6 اتنے امیر نکلے کہ اُسے یقین ہی نہیں آیا, کچھ کینسر میں مُبتلا تھے، کچھ فالِج, ذِیابیطس،دمہ یا دل کے مریض تھے، کچھ لوگ بستر پر تھے جن کے ہاتھوں/ٹانگوں یا ریڑھ کی ہڈی میں چوٹیں آئی تھیں, کچھ کے بچے پاگل، آوارہ یا بیکار نکلے, ایک جیل میں تھا۔ ایک شخص دو طلاق کے بعد تیسری شادی کی تلاش میں تھا, ایک ماہ کے اندر دسویں جماعت کا رجسٹر اذِیّت بیان کر رہا تھا*

ڈاکٹر نے پوچھا! “اب بتاؤ تمہارا ڈِپریشن کیسا ہے”؟

وہ شخص سمجھ گیا کہ اسے کوئی مُوزِی بیماری نہیں، وہ بھوکا نہیں، اس کا دماغ دُرُست ھے، اسے عدالت،پولیس،وکلاء کا کوئی مسئلہ نہیں، اس کی بیوی اور بچّے بہت اچھے اور صحت مند ھیں، وہ خود بھی صحت مند ھے
اس شخص کو احساس ہوا کہ واقعی دنیا میں بہت زیادہ دُکھ ہیں، اور وہ بہت سے اذِیّت ناک دُکھوں سے محفُوظ ھے

دوسروں کی پلیٹوں میں جھانکنے کی عادت چھوڑیں، اپنی پلیٹ کا کھانا پیار سے لیں۔ دوسروں کے ساتھ اپنا مُوازنہ نہ کریں

اور پھر بھی اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ ڈِپریشن میں ہیں تو آپ کو بھی اپنے اِسکول جانا چاہیے، دسویں جماعت کا رجسٹر لائیں اور ……
منقول

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: