دعا کی طاقت

اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت ایوب علیہ السلام کو پے پناہ دولت سے نوازا تھا۔ دنیا میں موجود کوئی ایسی چیز نہیں تھی .

جو حضرت ایوب علیہ السلام کے پاس نہ ہو۔ حضرت ایوب علیہ السلام اپنے وقت کے multi millionaire تھے۔ پھر اللہ پاک نے ان کو آزمایا۔ ان سے سب کچھ چھین لیا۔ ان کی بہت ساری اولاد تھی اور ساری ایک ساتھ فوت ہوگئی۔ وسیع و غریض رقبے پر ان کی فصلیں جل کر راکھ ہوگئی اور اللہ نے ان کو بے شمار بیماریاں لاحق کر دیں۔
پھر ایک دن حضرت ایوب علیہ السلام نے اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا کی اور اللہ سے رحم مانگا

وَاَيُّوۡبَ اِذۡ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّىۡ مَسَّنِىَ الضُّرُّ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰحِمِيۡنَ‌●

اور ایوب کو یاد کرو جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ مجھے بہت تکلیف ہو رہی ہے اور تو تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔
(سورة الأنبياء، 83)

اللہ پاک نے ایوب علیہ السلام کی دعا قبول کرلی اور حضرت ایوب علیہ السلام کو صحت یاب کر دیا اور ان کو پہلے سے بھی کئی گناہ زیادہ دولت اور شان و شوکت عطا کی۔

فَاسۡتَجَبۡنَا لَهٗ فَكَشَفۡنَا مَا بِهٖ مِنۡ ضُرٍّ‌ وَّاٰتَيۡنٰهُ اَهۡلَهٗ
ہم نے ان کی دعا قبول کرلی اور جو ان کو تکلیف تھی وہ دور کردی اور ان کو بال بچے بھی عطا فرمائے

(سورہ الانبیاء، 84)

اس طرح اللہ نے قرآن میں حضرت زکریا علیہ السلام کی بے بسی کا واقعہ ذکر کیا۔حضرت زکریا علیہ السلام کی بیوی بانجھ تھی۔ وہ بچے پیدا نہیں کرسکتی تھی۔ حضرت زکریا علیہ السلام بوڑھے ہو گئے پوری عمر گزر گئی بیوی بچے پیدا نہیں کرسکتی تھی تو ایک دن گھبرا کر اپنے اللہ سے دعا کی یااللہ اب میں بوڑھا ہوگیا ہوں، میری بیوی بھی بچے پیدا نہیں کر سکتی، یا اللہ تو مجھے بڑھاپے کا سہارا دے دے اور اللہ نے دعا قبول کرلی اور ایسی بیوی میں سے بچہ دے دیا جو بچے پیدا کر ہی نہیں سکتی تھی اور پھر حضرت زکریا علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے کہا
“اے میرے رب میں تجھ سے مانگ کر کبھی محروم نہیں رہا”
(سورہ مریم آیت نمبر 4)

اِذۡ نَادٰى رَبَّهٗ نِدَآءً خَفِيًّا●
جب اس نے اپنے رب کو آہستہ سے پکارا

قَالَ رَبِّ اِنِّىۡ وَهَنَ الۡعَظۡمُ مِنِّىۡ وَاشۡتَعَلَ الرَّاۡسُ شَيۡبًا●
اور کہا اے میرے رب میری ہڈیاں بڑھاپے کے سبب کمزور ہو گئی ہیں اور سر بڑھاپے کی وجہ سے شعلہ مارنے لگا

وَاِنِّىۡ خِفۡتُ الۡمَوَالِىَ مِنۡ وَّرَآءِىۡ وَكَانَتِ امۡرَاَتِىۡ عَاقِرًا فَهَبۡ لِىۡ مِنۡ لَّدُنۡكَ وَلِيًّاۙ●
اور میں اپنے بعد اپنے بھائی بندوں سے ڈرتا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے تو مجھے اپنے پاس سے ایک وارث عطا فرما

يٰزَكَرِيَّاۤ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰم ۨاسۡمُهٗ يَحۡيٰىۙ●
اے زکریا ہم تجھے خوشی سناتے ہیں ایک لڑکے کی جن کا نام یحییٰ ہے

قَالَ رَبِّ اَنّٰى يَكُوۡنُ لِىۡ غُلٰمٌ وَّكَانَتِ امۡرَاَتِىۡ عَاقِرًا وَّقَدۡ بَلَـغۡتُ مِنَ الۡـكِبَرِ عِتِيًّا●
عرض کی اے میرے رب! میرے لڑکا کہاں سے ہوگا میری عورت تو بانجھ ہے اور میں بڑھاپے سے سوکھ جانے کی حالت کو پہنچ گیا ہوں

قَالَ كَذٰلِكَ‌ۚ قَالَ رَبُّكَ هُوَ عَلَىَّ هَيِّنٌ وَّقَدۡ خَلَقۡتُكَ مِنۡ قَبۡلُ وَلَمۡ تَكُ شَيۡـًٔـا●
حکم ہوا کہ اسی طرح ہوگا کہ مجھے یہ آسان ہے اور میں پہلے تم کو بھی تو پیدا کرچکا ہوں اور تم کچھ چیز نہ تھے۔
(القرآن، سورہ مریم)

پھر قرآن میں اللہ نے حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ ذکر کیا کہ جب وہ مچھلی کے پیٹ میں گئے تو بے بسی کا یہ عالم تھا قرآن کہہ رہا کہ وہ تین اندھیروں کے پیٹ میں تھے ایک رات کا اندھیرا، دوسرا سمندر کے نیچے گہرائی کا اندھیرا اور تیسرا مچھلی کے پیٹ کا اندھیرا اور پھر حضرت یونس علیہ السلام نے بے بسی میں اللہ کو پکارا

فَنَادٰى فِىۡ الظُّلُمٰتِ اَنۡ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنۡتَ سُبۡحٰنَكَ ‌ۖ اِنِّىۡ كُنۡتُ مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ‌
“اندھیرے میں خدا کو پکارنے لگے کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ تو پاک ہے۔بےشک میں قصوروار ہوں”

اللہ پاک فرما رہے ہم نے یونس علیہ السلام کی call کو answer کیا اور انکو وہاں سے نکالا جہاں سے نکلنے کے سارے راستے بند تھے۔

فَاسۡتَجَبۡنَا لَهٗۙ وَنَجَّيۡنٰهُ مِنَ الۡـغَمِّ‌ؕ
“تو ہم نے ان کی پکار سن لی اور انکو غم سے نجات بخشی”

میرے دوستو اللہ پاک نے یہ واقعات قرآن میں اس لیے ذکر کیے کہ میرے بندو مجھ سے کبھی نہ امید نہ ہونا میں نے موسی کو فرعون کی گود میں پال کر دکھایا، اسماعیل کو چھری کے نیچے بچا کر دکھایا، ابراہیم کو جلتی آگ میں بچا کر دکھایا، مریم کو بن باپ کے بیٹا دے کر دکھایا، یوسف کو ایک قیدی سے بادشاہ بنا کر دکھایا۔

اس لیے ہمیں اللہ تبارک و تعالیٰ ہر وقت مانگتے رہنا چاہیے۔ اللہ کے لئے کیا مشکل ہے۔ اللہ کی ذات تو وہ ہے جو ناکامیوں میں بھی کامیابی پیدا کر سکتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: