عالم برزخ کیا ہے؟

برزخ دو چیزوں کے درمیان روک اور آڑ کو کہتے ہیں اس سے مراد موت سے قیامت تک کا درمیانی عرصہ ہے۔ مرنے کے بعد تمام جن و انس برزخ میں رہیں گے۔ سورۃ المومنین کی آیت نمبر 99-100 یہ کہتی ہے

حَتَّى إِذَا جَاءَ أَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُونِ●لَعَلِّي أَعْمَلُ صَالِحًا فِيمَا تَرَكْتُ كَلَّا إِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَائِلُهَا وَمِن وَرَائِهِم بَرْزَخٌ إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ●

ترجمہ: چیخو گے ہمیں دنیا میں بھیج دو ایک بار سجدوں میں گزار دیں گے پھر ساری زندگی تاکہ کچھ نیک اعمال کر آؤں جن کو میں دنیا میں چھوڑ آیا ہوں یہ صرف ایک بات ہوگی جو وہ کہ رہا ہوگا (کیونکہ عمل تو ہوگا نہیں اس کے پاس) اور اس کے پیچھے برزخ ہے (عالم برزخ ایک پردہ ہے دنیا اور آخرت کے درمیان) اس دن تک جس میں وہ (دوبارہ) اٹھائے جائیں گے۔

عالم برزخ کا کچھ تعلق دنیا کے ساتھ ہوتا ہے اور کچھ آخرت کے ساتھ۔ دنیا کے ساتھ تعلق اس طرح ہے جب انسان مرجاتا ہے تو اس کے عزیز و اقارب میت کے ثواب کیلئے صدقہ و خیرات اور ذکر و اذکار کرتے ہیں۔ اس سے میت کو ثواب پہنچتا ہے اور راحت و آرام ملتا ہے۔ آخرت کے ساتھ تعلق اس طرح ہے کہ جو عذاب یا آرام برزخ میں شروع ہوتا ہے۔ وہ آخرت میں ملنے والے عذاب یا آرام کا ہی حصہ ہوتا ہے۔ سورہ غافر کی آیت نمبر 46 میں ہے

النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَعَشِيًّا

عالم برزخ میں ان لوگوں کو دوزخ کی آگ کے سامنے صبح و شام لایا جاتا ہے۔

دوستوں آج بھی وقت ہے توبہ کر لیں سب اللہ خود کہہ رہا چیخو گے اور کہو گے یا اللہ دنیا میں بھیج دے ایک بار ساری زندگی سجدے میں گزار دوں گا اپنی۔۔۔۔۔ لیکن نہیں بھیجا جائے گا۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: