کیا آپ بھی اس تروتازہ شخص میں شامل ہیں

’’حضرت آدم بن علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کو فرماتے ہوئے سنا: روزِ قیامت سب لوگ گروہ در گروہ ہو جائیں گے۔ ہر امت اپنے اپنے نبی کے پیچھے ہو گی اور عرض کرے گی: اے فلاں! شفاعت فرمائیے، اے فلاں! شفاعت کیجئے۔ یہاں تک کہ شفاعت کی بات حضور نبی اکرم ﷺ پر آ کر ختم ہو گی۔ پس اس روز شفاعت کے لئے اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کو مقام محمود پر فائز فرمائے گا۔‘‘
الحديث رقم 26: أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب: تفسير القرآن، باب: قوله: عسي أن يبعثک ربک مقاما محمودا، 4 / 1748، الرقم: 4441، والنسائي في السنن الکبري، 6 / 381، الرقم: 295، وابن منده في الإيمان، 2 / 871، الرقم: 927.

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  اللہ تعالیٰ اس شخص کو تروتازہ رکھے جس نے میری کوئی حدیث سنی اور اسے دوسروں تک پہنچا دیا، اس لیے کہ بہت سے وہ لوگ جنہیں حدیث پہنچائی جاتی ہے وہ سننے والوں سے زیادہ ادراک رکھنے والے ہوتے ہیں ۔
(سن ابن ماجہ 232 )

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: