خوش قسمتی اور بد قسمتی

بدقسمتی تب بنتی ہے جب ہم اپنی خوش قسمتی کو پہچان نہ سکیں. بھیک مانگتے کسی پھیلے ہوئے ہاتھ کو دیکھ کر جب ہم وہ نعمتیں شمار کرتے ہیں جن کی وجہ سے ہم اس مقام پر نہیں تو دل سے اللہ کا شُکر نکلتا ہے. کسی بیمار کو دیکھ کر اپنی صحت پر شُکر ادا کرنا کسی بے راہرو کو دیکھ کر سیدھی راہ کی استقامت اور توفیق ملنے کا شُکر کرنا۔

کسی بے گھر کو دیکھ کر اپنے گھر پر شُکر ادا کرنا، کسی تنہا کو دیکھ کر اپنے دستیاب رشتوں کو شمار کرنا یہ سب شُکر ہیں جو مل کر ہمیں خوش قسمت بناتے ہیں. بدقسمتی تب بنتی ہے جب ہم خود سے کسی بھی طرح بہتر افراد کو دیکھ کر شُکر بھول جاتے ہیں. ہم حسد، ناشُکری، جلن، احساس محرومی، غصہ جیسے منفی جذبات کی دلدل میں اتر جاتے ہیں. ناشُکری کی یہ دلدل پھر بہت عجیب ہے. ہم جتنا ہاتھ پیر مارتے ہیں اتنا ہی اس میں دھنستے چلے جاتے ہیں. اور سمجھتے ہیں کہ ہم بہت بدقسمت ہیں.

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: