اس نے سمندر سے کہا

سمندر کِنارے ایک درخت تھا جس پہ چڑیا کا گھونسلا تھا ایک دن تیز ہوا چلی تو چڑیا کا بچہ سمندر میں گرگیا چڑیا بچے کو نکالنے لگی تو اُسکے اپنے پر گیلے ہوگئے اور وہ لڑکھڑا گئی اُس نے سمندر سے کہا اپنی لہر سے میرا بچہ باہر پھنک دے مگر سمندر نہ مانا تو چڑیا بولی دیکھ میں تیرا سارا پانی پی جاوُں گی تجھے ریگستان بنا دونگی۔

سمندراپنے غرور میں گرجا کہ اے چڑیا میں چاہوں تو ساری دنیا کو غرق کردوں تو تو میرا کیا بگاڑ سکتی ہے؟چڑیا نے اتنا سُنا تو بولی چل پھرخشک ہونے کو تیار ہوجا اسی کےساتھ اُس نےایک گھونٹ بھرا اُوراڑ کےدرخت پہ بیٹھی پھرآئی گھونٹ بھراپھردرخت پہ بیٹھی یہی عمل اُس نے7-8 بار دُھرایا تو سمندر گھبرا کے بولا: پاگل ہوگئی ہےکیا کیوں مجھےختم کرنےلگی ہے؟ مگرچڑیااپنی دھن میں یہ عمل بار بار کر رہی تھی سمندرنےایک زور کی لہرماری اورچڑیا کے بچے کو باہر پھینک دیا ۔

درخت جو کافی دیر سے یہ سب دیکھ رہا تھا سمندر سےبولا اے طاقت کےبادشاہ تو جو ساری دُنیا کو پل بھر میں غرق کر سکتا ہےاس کمزور سی چڑیا سےڈرگیا یہ سمجھ نہیں آئی ؟ سمندربولا تو کیا سجھا میں جو تجھےایک پل میں اُکھاڑ سکتاہوں اک پل میں دُنیا تباہ کرسکتا ہوں اس چڑیاسے ڈرونگا؟

نہیں میں تواس ایک ماں سےڈرا ہوں ماں کےجذبے سے ڈرا ہوں اک ماں کے سامنے توعرش ہل جاتا ہے تو میری کیا مجال جس طرح وہ مجھےپی رہی تھی مجھےلگا کہ وہ مجھے ریگستان بنا ہی دےگی ماں ” اللہ پاک ” کی سب سے عظیم نعمت ہے۔ اس کی قدر کریں ۔ اللہ پاک سے دعاء ہے کہ وہ ھمیں اپنے والدین کی خدمت کی توفیق عطاء فرمائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: