حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حکمت وشفقت

حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ اپنا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے کسی کام کیلئے بھیجا کہ فلاں کام کر آؤ۔

میں گھر سے نکلا تو باہر کچھ کھیل تماشا ہور ہا تھا ۔ میں اس کھیل تماشے میں لگ گیا اور جس کام کیلئے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بھیجا تھا وہ بھول گیا ۔ اب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس انتظار میں تھے کہ میں واپس آ کر بتاؤں کہ اس کام کا کیا ہوا؟ جب کافی دیر گزرگئی اور میں واپس نہ پہنچا تو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لائے اور جا کر وہ کام خود کر لیا جس کیلئے مجھے بھیجا تھا۔ آپ وہ کام کر کے واپس آۓ تو آپ نے دیکھا کہ میں بچوں کے ساتھ کھیل رہا ہوں۔ جب میری نظر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پڑی تو مجھے خیال آیا کہ مجھ سے غلطی ہوگئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے کام سے بھیجا تھا اور میں کھیل میں لگ گیا۔ مجھے صدمہ بھی ہوا اور فکر بھی ہوئی کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ناراض ہوں گے چنانچہ میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جا کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! جب گھر سے باہرنکلا تو میں وہ کام کرنا بھول گیا اور بچوں کے ساتھ کھیل میں لگ تھیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی بات نہیں ۔ میں وہ کام خود کر آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ کو نہ ڈانٹا نہ ڈ پٹاور نہ کوئی اور سزادی۔

(اصلاحی خطبات ج۱۳)

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: