محبت الہی کی پہچان

ایک صاحب کہتے ہیں کہ میں ایک باندی خرید کر لایا۔ دیکھنے میں وہ کمزوری تھی ۔ بیمارلگتی تھی۔ سارا دن اس نے گھر کے کام کئے اور عشاء کے بعد مجھ سے پوچھنے لگی کہ کوئی اور کام بھی میرے ذمہ ہے۔ میں نے کہا جاؤ آرام کرلو۔

اس نے وضو کیا اور مصلی پر آ گئی اور مصلے پر آ کر اس سے نفلیں پڑھنی شروع کردیں۔ کہنے لگے میں سو گیا تہجد کے وقت جب میری آنکھ کھلی تو میں نے دیکھا کہ وہ اس وقت اللہ تعالی سے دعا مانگ رہی تھی ۔ مناجات کر رہی تھی اور مناجات میں یہ کہہ رہی تھی کہ اے اللہ! آپ کو مجھ سے محبت رکھنے کی قسم ! آپ میری یہ بات پوری فرما دیجئے کہتے ہیں کہ جب میں نے یہ سنا کہ اے اللہ ! آپ کو مجھ سے محبت رکھنے کی قسم تو میں نے اس کوٹوکا اور کہا اے لڑکی ! یہ نہ کہہ کہ

اے اللہ ! آپ کو مجھ سے محبت رکھنے کی قسم بلکہ یوں کہہ کہ اے اللہ مجھے آپ سے محبت رکھنے کی قسم فرماتے ہیں کہ جب اس نے یہ سنا تو وہ ناراض ہونے لگ گئی، بگڑ گئی اور کہنے لگی میرے مالک! بات یہ ہے کہ اگر اللہ رب العزت کو مجھ سے محبت نہ ہوتی تو یوں وہ مجھ کو مصلی پر نہ بٹھاتا اور آپ کو ساری رات میٹھی نیند نہ سلاتا۔ آپ کو جو میٹھی نیند سلا دیا اور مجھے مصلی پر بٹھا کر جگا دیا میرے ساتھ کوئی تعلق تو ہے کہ مجھے جگایا ہوا ہے۔ سبحان اللہ ایک وہ وقت تھا کہ تہجد کے وقت اپنے رب سے یوں اپنے تعلق کے واسطے دیا کرتے تھے اے اللہ! آپ کو مجھ سے محبت رکھنے کی قسم واقعی اللہ رب العزت کو ان سے محبت ہوتی تھی اور ان لوگوں کواللہ تعالی سے محبت ہوتی تھی ۔

( خطبات ذوالفقار ص۵/۲۶)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: