انصار کی شان

جب مسجد نبوی کی تعمیر مکمل ہو چکی تو حضرت انس بن مالک کے گھر میں رسول اللہ نے مہاجرین وانصار کو جمع کیا۔ اس اجتماع میں نوے یا ایک سواصحاب موجود تھے ، جن میں سے نصف مہاجرین اور نصف انصار تھے۔ حضور نے فرمایا: اللہ کی راہ میں دو آ دمی بھائی بھائی بن جائیں‘‘۔

تو پھر ہر انصاری نے اپنے مہاجر بھائی کو ساتھ لے جا کر گھر کی ایک ایک چیز کا جائزہ دے، یا اور کہہ دیا کہ اس میں نصف آپ کا اور نصف ہمارا ہے۔ مثلا عبدالرحمن بن عوف ، سعد بن ربیع کے بھائی قرار پائے تھے، جو انصار میں سب سے زیادہ دولت مند سمجھے جاتے تھے۔ انہوں نے اپنے مہاجر بھائی سے یہ بھی کہہ دیا کہ میری دو بیویاں ہیں ۔ان میں سے جسے آپ پسند کریں طلاق دے دیتا ہوں ۔عدت گزر جانے کے بعد اس سے شادی کر لینا، لیکن عبد الرحمن نے احسان کا شکر یہ ادا کر تے ہوۓ کچھ لینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ مجھے صرف بازار کا راستہ بتا دیجئے ۔ چنانچہ انہوں نے بنوقینقاع کے بازار میں گھی اور پنیر سے تجارت کی ابتدا کی ۔ رفتہ رفتہ ان کی تجارت کی یہ ترقی ہوئی کہ خودان کا قول تھا کہ خاک پر ہاتھ ڈالتا ہوں تو سونا بن جاتی ہے ۔ ان کا اسباب تجارت سات سات سو اونٹوں پر لاد کر آ تا تھا اور جس دن مدینہ میں پہنچتا تھا ، تمام شہر میں دھوم مچ جاتی تھی ( سیرۃ النبی جلد اول ) انصار کے پاس نخلستان اور کھیت تھے ۔ انہوں نے آپ سے درخواست کی کہ یہ چیز میں ہمارے مہاجر بھائیوں میں تقسیم کر دی جائیں۔ حضور کو علم تھا کہ مہاجرین کا پیشہ صرف تجارت ہے ۔ وہ کھیتی باڑی اور باغبانی کے فن سے بالکل نا آشنا ہیں ۔لہذا آپ نے یہ درخواست قبول نہ فرمائی ۔ پھر انصار نے عرض کیا کہ سارے کام ہم کریں گے ، جو پیداوار ہو اس میں سے نصف حصہ مہاجرین کو ملے۔ یہ تھی انصار کی شان ایثار۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: