اللہ کی ناپسندیدہ اور پسندیدہ جگہیں

حضرت سَیِّدُنا جابر بن سَمُرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتےہیں:ایک مرتبہ میں نےرَسُوْلُ الله صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کوچاندنی رات میں سُرخ (دھاری دار) حُلّہ پہنےہوئےدیکھا،میں کبھی چاندکی طرف دیکھتا اور کبھی آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے چہرۂ اَنور کو دیکھتا،تو مجھےآپ کا چہرہ چاند سے بھی زِیادہ خُوبصُورت نظر آتا تھا ( سنن الترمذي،کتاب الأدب، الحدیث:۲۸۲۰، ۴/۳۷۰)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ❤️❤️ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ مقامات مساجد ہیں اور سب سے زیادہ ناپسندیدہ جگہیں بازار ہیں ۔ مشکوٰۃ المصابیح696 ’’حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم جانتے ہو رات میرے رب نے مجھے کیا اختیار دیا ہے؟ ہم نے عرض کیا: اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ﷺسب سے بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اس نے مجھے یہ اختیار دیا کہ اگر میں چاہوں تو میری نصف اُمت کو (بلاحساب و کتاب) جنت میں داخل کر دیا جائے یا یہ کہ میں شفاعت کروں، میں نے شفاعت کو پسند کیا صحابہ رضی اللہ عنھم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! الله تعالیٰ سے ہمارے لئے دعا فرمائیں کہ الله تعالیٰ ہمیں (بھی) شفاعت کے حقداروں میں (شامل) کر دے۔

آپ ﷺ نے فرمایا: وہ ہر مسلمان کے لئے ہے۔‘‘ الحديث رقم 30: أخرجه ابن ماجه في السنن، کتاب: الزهد، باب: ذکر الشفاعة، 2 / 1444، الرقم: 4317، والحاکم في المستدرک، 1 / 135، الرقم: 221، والطبراني في المعجم الکبير، 18 / 68، الرقم: 126، وفي مسند الشاميين، 1 / 326، الرقم: 575، وابن منده في الإيمان، 20 / 873، الرقم: 932.

نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس شخص کو تروتازہ رکھے جس نے میری کوئی حدیث سنی اور اسے دوسروں تک پہنچا دیا، اس لیے کہ بہت سے وہ لوگ جنہیں حدیث پہنچائی جاتی ہے وہ سننے والوں سے زیادہ ادراک رکھنے والے ہوتے ہیں ۔ (سن ابن ماجہ 232 )

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: