عورت کے سلوک کے بارے میں آپ ﷺ نے کیا ارشاد فرمایا ؟

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ! ”عورتوں کے بارے میں میری وصیت کا ہمیشہ خیال رکھنا، کیونکہ عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے۔ پسلی میں بھی سب سے زیادہ ٹیڑھا اوپر کا حصہ ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص اسے بالکل سیدھی کرنے کی کوشش کرے تو انجام کار توڑ کے رہے گا اور اگر اسے وہ یونہی چھوڑ دے گا تو پھر ہمیشہ ٹیڑھی ہی رہ جائے گی۔ پس عورتوں کے بارے میں میری نصیحت مانو، عورتوں سے اچھا سلوک کرو۔“

صحیح البخاري : 3331، صحیح

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : عورتوں سے حسن سلوک کرو کیونکہ عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے اور پسلی کا اوپر والا حصہ زیادہ ٹیڑھا ہوتاہے ۔ پس اگر اسے سیدھا کرنا چاہو تو توڑ دو گے اور اگر (اپنے حال پر چھوڑ دو تو ہمیشہ ٹیرھا رہے گا) پس عورتوں سے اچھا سلوک کرو۔(بخاری شریف، راوی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ، حدیث نمبر5184) بخاری و مسلم کی روایت میں ہے عورت پسلی کے مانند ہے۔

اگر اسے سیدھا کروگے تو توڑ دوگے اور اگر اس سے نفع اٹھانا چاہوگے تو اس کے ٹیڑھا پن کے باوجود نفع پاؤگے۔(بخاری شریف، راوی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، حدیث 3331) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: کوئی مومن کسی ایماندار عورت سے بغض نہ رکھے اسے اس کی کوئی بات ناپسند ہو تو دوسری بات پسندہوگی

قرآن مجید میں عورتوں کے مقام اور ان سے حسن سلوک کے بارے میں کئی آیاتِ ربانی موجود ہیں۔عورت خواہ ماں ہو یا بہن ،بیوی ہو یا بیٹی ،اسلام نے ان میں سے ہر ایک کے حقوق وفرائض کو تفصیل کے ساتھ بیان کر دیا ہے۔ ارشاد ربانی ہے :اللہ نے تمہیں ایک انسان (حضرت آدمؑ) سے پیدا کیا اور اسی سے اس کی بیوی کو بنایا۔(سورۃ النساء)اس بناء پر انسان ہونے میں مرد وعورت سب برابر ہیں۔ قرآن میں ا شاد ہے کہ:ہم نے بنی آدم کو بزرگی وفضیلت بخشی اور انہیں خشکی اور تری کے لیے سواری دی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: