روح کی پیاس

اللہ تعالیٰ نے انسان کو’’جسم‘‘اور’’روح‘‘ دو چیزوں کے مرکب سے بنایا ہے۔جسم نے روح کو اپنے اندر سمو رکھا ہے,لیکن انسان کی حقیقت بنیادی طور پر روح سے ہے۔

’’جسم‘‘ اور ’’روح‘‘کی ضروریات الگ الگ ہیں۔بہت کم لوگ اس بارے میں جانتے ہیں اور اس لا علمی کی وجہ سے بے را ہ روی،بے چینی، پریشانی اور اندورنی انتشار کا شکار ہیں۔ہمارا مسلمان نوجوان اس لیے بے مقصدیت اور بے راہ روی کا شکار ہے کیونکہ وہ محبت کے اصل معنی ہی نہیں جانتا اور روحانی پیاس کے معنی کچھ اور سمجھ بیٹھا ہے۔

جب جسم کو کھانا،پانی اور ضروریات زندگی نہیں ملتی وہ فریاد کرتا ہے۔ اسی طرح ’’روح‘‘ کھانا، کپڑے، موسیقی اور کسی بھی دنیاوی لذت کو نہیں جانتی۔ اسے کچھ اور چاہیے۔جب ’’روح‘‘ کو اپنی پسند کا کھانا نہیں ملتا تو وہ فریاد کرتی ہے اور اس کی پریشانی ویرانی بن کر سارے جسم پر طاری ہو جاتی ہے۔پھرانسان اس ویرانی کو دور کرنے کے لیے روز نئی سے نئی جگہ کھانا کھانے چلا جاتا ہیے۔ایک جگہ سے شاپنگ کر کے دل نہیں بھرتا اس سے بھی اچھے شاپنگ مال میں جاکر شاپنگ کرنے کی خواہش بڑھ جاتی ہے۔ایسے کام کر کے اسے لگتا ہے کہ وہ اپنے اندر کی ویرانی اور کرب کو کم کر رہا ہے۔مگر حقیقت میں انسان اپنی ویرانی کو اوربڑھا رہا ہوتا ہے۔کبھی آپ محسوس کریں کہ ایسا کیوں ہوتا ہے کہ اچھے سے اچھی جگہ کھانا کھاکراچھے سے اچھا لباس پہن کر بھی انسان مزید اچھے سے اچھے کی خواہش میں ہی مبتلا رہتا ہے۔ یہی وہ نقطہ ہے جہاں انسانی روح کی پیاس اپنے عروج پر پہنچ چکی ہوتی ہے اور ہم اپنی ہی روح کو سمجھ نہیں پا رہے ہوتے کہ اس کی ویرانی کو کیسے کم کریں اور جسم کو روز نئی سے نئی لذتوں میں ڈال کر خود کو وقتی تسکین دیتے رہتے ہیں خود کو بہلاتے رہتے ہیں۔جس سے اندر کی ویرانی بڑھتی رہتی ہے کم نہیں ہوتی۔

جب تک دلوں میں اللہ کے ذکر کا دِیا نہیں جلے گا اور معاملات زندگی میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنے کی کوشش نہیں کی جائے گی‘ روح کی پیاس بڑھتی جائے گی‘ نہ انسان کا اندورنی انتشار ختم ہو گا اور نہ ہم معاشرے کو بے راہ روی سے بچا سکیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: