سلطان عالمگیر اور بہروپیا

حضرت عالمگیر علیہ الرحمۃ کو ایک بہروپیے نے دھوکا دینا چاہا۔ بادشاہ نے فرمایا۔ اگر دھوکا دے دیا تو جو مانگے گا وہ پاۓ گا ۔

اس نے بہت کوشش کی لیکن حضرت عالمگیر نے جب دیکھا پہچان لیا۔ آخر مدت مدید کا بھلا وادے کر صوفی زاہد عابد بین کر ایک پہاڑ کی کھوہ میں جا بیٹھا۔ رات دن عبادت ہی میں مشغول رہتا۔ پہلے دیہاتیوں کا ہجوم ہوا۔ پھر شہریوں کا پھر امراء کا پھر وزرا ءسب آتے۔ یہ کسی طرف التفات نہ کرتا۔ شده شدہ بادشاہ تک خبر پہنچی ۔ سلطان کو اللہ سے خاص محبت تھی۔ خود تشریف لے گئے بہروپے نے دور سے دیکھا۔ بادشاہ کی سواری آ رہی ہے ۔ گردن جھکالی اور مراقبہ میں مشغول ہو گیا۔ سلطان منتظر ہے۔ دیر کے بعد نظر اٹھائی اور بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ سلطان مؤدب بیٹھ گئے ۔ ان کا مؤدب بیٹھنا تھا کہ بہروپیا اٹھا اور جھک کر سلام کیا کہ ثانی پناہ ! میں فلاں بہروپیا ہوں ۔ بادشاہ خجل ہوئے اور فرمایا ۔ واقعی اس بار میں نہ پہچان سکا ۔اب مانگ جو کچھ مانگتا ہے۔ اس نے کہا۔ اب میں آپ سے کیا مانگوں ۔ میں نے اس کا نام جھوٹے طور پر لیا۔ اس کا تو میراثر ہوا کہ آپ جیسا جلیل القدر بادشاہ میرے دروازے پر باادب حاضر ہوا ۔ اب کے طور پر اس کا نام لے دیکھوں۔ یہ کہا اور کپڑے پھاڑے اور جنگل کو چلا گیا۔

سبق:۔ اللہ کا نام لینا بڑا باعث برکت ہے۔ اور اس کی یاد کی برکت سے دنیا کے بڑے بڑے لوگ بھی خدا کے در پر حاضری دینے لگتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: