انسان کی پیدائش پر شیطان کا اللہ سے جھگڑا

جب کچھ بھی نہیں تھا صرف اللہ کی ذات تھی اللہ نے سب سے پہلے پانی کو بنایا۔ پھر پانی کے اوپر اپنا عرش بنایا۔

پھر اللہ نے قلم بنایا اور قلم کو حکم دیا کہ لکھو جو کچھ بھی قیامت تک ہونا ہے سب کچھ لکھ دو اور قلم نے اللہ کے حکم سے سب کچھ لکھ دیا جو کچھ قیامت تک ہونا ہے۔ پھر پچاس ہزار سال کے بعد اللہ نے آسمان اور زمین کو بنایا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرشتوں اور جنوں کو بنایا۔ انسان کو دنیا میں بھیجنے سے دو ہزار سال پہلے اللہ نے جنوں کو دنیا میں بھیج دیا تھا لیکن جنوں نے دنیا میں آکر خوب دنگا فساد کیا اور خون خرابہ کیا۔

اللہ نے جب انسان کو پیدا کرنا چاہا تو اللہ نے فرشتوں کو بتایا کہ میں ایک ایسی مخلوق پیدا کرنے والا ہوں جو زمین میں میرا خلیفہ ہوں گی۔ فرشتے کیونکہ جنات کے حالات دیکھ چکے تھے تو فرشتوں نے اللہ تبارک و تعالیٰ سے التجا کی کہ اے اللہ پاک یہ انسان بھی دنیا میں جا کر فساد کرے گا اور خوب خون خرابہ کرے گا۔ تو اللہ نے جواب دیا جو میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے۔

وَاِذۡ قَالَ رَبُّكَ لِلۡمَلٰٓٮِٕكَةِ اِنِّىۡ جَاعِلٌ فِىۡ الۡاَرۡضِ خَلِيۡفَةً ‌ؕ قَالُوۡٓا اَتَجۡعَلُ فِيۡهَا مَنۡ يُّفۡسِدُ فِيۡهَا وَيَسۡفِكُ الدِّمَآءَۚ وَنَحۡنُ نُسَبِّحُ بِحَمۡدِكَ وَنُقَدِّسُ لَـكَ‌ؕ قَالَ اِنِّىۡٓ اَعۡلَمُ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ●
“اور یاد کرو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے فرمایا میں زمین میں اپنا نائب بنانے والا ہوں تو بولے کیا ایسے کو نائب کرے گا جو اس میں فساد پھیلائے گا اور خونریزیاں کرے گا۔ ہم تجھے سراہتے ہوئے تیری تسبیح کرتے اور تیری پاکی بولتے ہیں۔ فرمایا جو مجھے معلوم ہے وہ تم نہیں جانتے”
(القرآن)

اللہ نے اسرافیل، میکائیل، اور جبرایل علیہ السلام کو باری باری زمین پر بھیجا کہ جا کر زمین کے چاروں کونوں سے مٹی لے آؤ میں نے انسان کو پیدا کرنا ہے۔ جب یہ فرشتے باری باری زمین پر آئے زمین سے مٹی لینے کے لیے تو زمین نے ان فرشتوں کو اللہ کا واسطہ دیا کہ مجھ سے مٹی نہ لے جاؤ جس سے ایسے انسان کو پیدا کیا جائے جو جہنم میں جلے گا۔ پھر اللہ نے آخر میں حضرت عزائیل علیہ السلام کو بھیجا کہ پیارے عزرائیل تم جا کر مٹی لے کر آؤ۔ جب حضرت عزائیل علیہ السلام مٹی لینے آئے تو زمین نے ان کو بھی رو کر فریاد کی اور اللہ کا واسطہ دیا کہ مجھ سے مٹی لے کر نہ جاؤ لیکن انہوں نے ایک بھی نہ سنی اور زمین کے چاروں کونوں سے مٹی لے کر اللہ کے پاس حاضر ہوئے۔ اللہ نے پوچھا پیارے عزرائیل جب مٹی نے تم سے رو کر فریاد کی یہاں تک کہ میرا واسطہ دیا تو تمہیں مٹی پر رحم نہیں آیا؟ انہوں نے کہا یا اللہ میرے لئے تیرے حکم سے بڑھ کر کچھ نہیں اس لئے میں مٹی لے کر آ گیا۔ اللہ نے فرمایا پیارے عزرائیل آج کے بعد انسان کو مارنے کی ذمہ داری میں تمہیں سونپ رہا ہوں۔
۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کا پتلا بنایا اور چالیس سال تک وہ پڑا رہا۔ اللہ نے آدم علیہ السلام کے پتلے پر 39 سال تک غم کی بارش اور ایک سال تک خوشی اور راحت کی بارش برسائی۔ اور اس میں انسان کو دو سبق دیے کہ دنیا میں غم بہت زیادہ اور خوشیاں بہت کم ہیں اور دوسرا یہ ہے کہ غم کی رات جتنی طویل کیوں نہ ہو خورشی ضرور آئے گی۔ چالیس سال کے بعد جب آدم علیہ السلام کے پتلے کی مٹی بجنے والی مٹی بن گئی ایسی مٹی جسے ٹھوکر لگنے سے آواز آتی ہو تو اس سے اللہ نے آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا

خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ مِنۡ صَلۡصَالٍ كَالۡفَخَّارِۙ●
“اسی نے انسان کو ٹھیکرے کی طرح کھنکھناتی مٹی سے بنایا”
(سورة الرحمن، 14)

جب حضرت آدم کا پتلا پڑا تھا تو ابلیس حضرت آدم علیہ السلام کے پتلے کے پاس اکثر چکر لگاتا رہتا اور حسد سے دیکھ کر کہتا تھا کہ اسے ضرور اللہ نے کسی خاص مقصد کے لئے بنایا ہے۔ اس نے ایک دن حسد میں آکر آدم علیہ السلام کے پتلے پر تھوک دیا۔ اللہ نے حضرت جبرائیل علیہ السلام سے کہا پیارے جبرائیل آدم کے پتلے سے جاکر اس تھوک کی جگہ کو اکھاڑ لو۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے اپنی انگلی سے تھوک والی جگہ کی مٹی کو اتارا اور وہاں پر آج ناف ہے ہماری۔ پھر اللہ نے اس ابلیس کی تھوک والی مٹی سے کتے کو پیدا کیا اس لیے کتے کے اندر وفاداری انسان کی جبلت کا اثر ہے اور کاٹتا ہے کہ یہ شیطان کی تھوک کا اثر ہے۔

فرشتوں نے آپس میں گفتگو کرنا شروع کر دی کہ اللہ یہ جو بھی مخلوق بنا رہا ہے یہ علم اور رتبے میں ہم سے زیادہ نہیں ہوسکتی۔ اللہ کیوں کہ شیطان کے کام بھی دیکھ رہا تھا اور فرشتوں کی باتیں بھی سن رہا تھا تو اللہ نے کہا جب میں اس کے اندر روح ڈالو تو تم تمام اسے سجدہ کرنا۔

اللہ نے آدم علیہ السلام کے اندر روح ڈالنے سے پہلے ان کو دنیا کا تمام علم عطا کر دیا وہ علم بھی عطا کر دیا جو فرشتوں کے پاس بھی نہیں تھا۔جب آدم علیہ السلام کے اندر روح ڈل چکی اللہ نے حضرت آدم سے اُن چیزوں کے نام پوچھے جو فرشتوں کو بھی پتہ نہیں تھے اور پھر فرشتوں کو فرمایا دیکھو میں کہتا تھا نا جو میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے۔

وَعَلَّمَ اٰدَمَ الۡاَسۡمَآءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمۡ عَلَى الۡمَلٰٓٮِٕكَةِ فَقَالَ اَنۡۢبِــُٔوۡنِىۡ بِاَسۡمَآءِ هٰٓؤُلَآءِ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰدِقِيۡنَ‏●
“اور اللہ تعالیٰ نے آدم کو تمام اشیاء کے نام سکھائے. پھر سب کو ملائکہ پر پیش کرکے فرمایا سچے ہو تو ان کے نام تو بتاؤ”
(القرآن)

قَالَ يٰٓـاٰدَمُ اَنۡۢبِئۡهُمۡ بِاَسۡمَآٮِٕهِمۡ‌ۚ فَلَمَّآ اَنۡۢبَاَهُمۡ بِاَسۡمَآٮِٕهِمۡۙ قَالَ اَلَمۡ اَقُل لَّـكُمۡ اِنِّىۡٓ اَعۡلَمُ غَيۡبَ السَّمٰوٰتِ
فرمایا اے آدم بتادے انہیں سب اشیاء کے نام جب آدم نے انہیں سب کے نام بتادیئے تو فرمایا میں نہ کہتا تھا کہ میں جانتا ہوں آسمانوں اور زمین کی سب چھپی چیزیں۔
(القرآن)

کیونکہ اللہ شیطان اور فرشتوں کی گفتگو سن چکا تھا۔ شیطان کو حسد اور فرشتوں کو اپنی عبادت پر غرور تو اللہ نے دونوں سے کہا کہ آدم علیہ السلام کو سجدہ کرو اور یہ سجدہ اس لیے تھا کہ اللہ دونوں کو باور کروانا چاہتا تھا کہ یہ جو بھی مخلوق ہے اس کا status فرشتوں اور جنات سے کہیں زیادہ ہے۔ سب نے سجدہ کیا مگر شیطان نے انکار کر دیا اور کہنے لگا میں تو اس سے کہیں زیادہ افضل ہو میں کیوں کروں اسے سجدہ

وَاِذۡ قُلۡنَا لِلۡمَلٰٓٮِٕكَةِ اسۡجُدُوۡا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوۡٓا اِلَّاۤ اِبۡلِيۡسَۙ اَبٰى وَاسۡتَكۡبَرَ وَكَانَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ●
“اور جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کے آگے سجدہ کرو تو وہ سجدے میں گر پڑے مگر شیطان نے انکار کیا اور غرور میں آکر کافر بن گیا.”
(القرآن)

قَالَ مَا مَنَعَكَ اَلَّا تَسۡجُدَ اِذۡ اَمَرۡتُكَ‌ؕ قَالَ اَنَا خَيۡرٌ مِّنۡهُ‌ۚ خَلَقۡتَنِىۡ مِنۡ نَّارٍ وَّخَلَقۡتَهٗ مِنۡ طِيۡنٍ●
“فرمایا جب میں نے تجھ کو حکم دیا تو کس چیز نے تجھے سجدہ کرنے سے باز رکھا۔ اس نے کہا کہ میں اس سے افضل ہوں۔ مجھے تو نے آگ سے پیدا کیا ہے اور اسے مٹی سے بنایا ہے”
(سورہ الاعراف، 12)

اللہ نے شیطان کو جنت سے نکالا اور کہا کے دفع ہو جا یہاں سے

قَالَ فَاهۡبِطۡ مِنۡهَا فَمَا يَكُوۡنُ لَـكَ اَنۡ تَتَكَبَّرَ فِيۡهَا فَاخۡرُجۡ اِنَّكَ مِنَ الصّٰغِرِيۡنَ●
فرمایا تو بہشت سے نکل۔ تجھے شایاں نہیں کہ یہاں غرور کرے پس نکل جا یہاں سے۔ تو ذلیل ہے.
(القرآن)

جب اللہ نے کہا کہ نکل جنت سے تو ڈر گیا کہ کہیں اللہ نافرمانی کی سزا میں مجھے فنا نہ کر دے تو منت کرنے لگا کہ یا اللہ مجھے قیامت تک کے لیے زندگی دے دے۔زندگی کی بھیک مانگنے لگا تو اللہ نے کہا جا تجھے دے دی مہلت

قَالَ رَبِّ فَاَنۡظِرۡنِىۡۤ اِلٰى يَوۡمِ يُبۡعَثُوۡنَ●قَالَ فَاِنَّكَ مِنَ الۡمُنۡظَرِيۡنَۙ●
(سورہ الحجر، 36,37)
“کہنے لگا پروردگار مجھے اس دن تک مہلت دے جب لوگ (مرنے کے بعد) زندہ کئے جائیں گے۔فرمایا کہ تجھے مہلت دی جاتی ہے”

جیسے ہی اللہ نے مہلت دی تو گارنٹی مل گئی کہ اللہ وعدے کا پکا ہے اب مہلت مل گئی ہے تو سزا تو نہیں دے گا تو اللہ پر بہتان لگانا شروع ہوگیا کہ تو نے مجھے گمراہ کیا ہے اب میں بھی تیرے بندوں کو قیامت تک گمراہ کرتا رہوں گا

قَالَ فَبِمَاۤ اَغۡوَيۡتَنِىۡ لَاَقۡعُدَنَّ لَهُمۡ صِرَاطَكَ الۡمُسۡتَقِيۡمَۙ●
بولا قسم ہے تو نے مجھے گمراہ کیا میں ضرور تیرے سیدھے راستہ پر ان بندوں کی تاک میں بیٹھوں گا۔
(القرآن)

قَالَ اَرَءَيۡتَكَ هٰذَا الَّذِىۡ كَرَّمۡتَ عَلَىَّ لَٮِٕنۡ اَخَّرۡتَنِ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ لَاَحۡتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهٗۤ اِلَّا قَلِيۡلاً●
کہنے لگا کہ دیکھ تو یہی وہ (انسان) ہے جسے تو نے مجھ پر فضیلت دی ہے۔ اگر تو مجھ کو قیامت کے دن تک مہلت دے تو میں تھوڑے سے شخصوں کے سوا اس کی تمام اولاد کی جڑ کاٹتا رہوں گا۔
(القرآن)

اس پر اللہ نے جواب دیا

(وَعِزَّتِي وَجَلَالِي لَا أَزَالُ أَغْفِرُ لَهُمْ مَا اسْتَغْفَرُونِي.)
بحوالہ: مسند امام احمد بن حنبل، جدیث نمبر 11729

شیطان مردود ذرا میری بات بھی سن میرے بندے بتقاضائے بشریت گناہ کرتے رہیں گے اور کرتے رہیں گے لیکن جب جب سچی توبہ کریں گے مجھے اپنی عزت اور جلالت کی قسم میں بھی ان کو معاف کرتا رہوں گا.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: