گلشن رسول ﷺ کی سیر

ماہ ربیع الاول اور ہفتہ سیرت الرسول ﷺ ہیں آپ لوگوں نے آپ ﷺ کی سیرت پڑھی اور سنی ہوگی اور یقیناً پتہ لگ گیا ہوگا کہ وہ کس لیول کے عادل خلیفہ، قاضی، دلیر سپہ سالار، بے مثال شوہر، عظیم باپ اور غمخوار دوست تھے اور بھی کئی گوشے آپ لوگوں کے سامنے ہوں گے جو آپکی شخصیت اور عظمت پر دلالت کرتے ہوں گے۔

میں جو گوشہ سیرت بیان کرنے جا رہا ہوں وہ ایک الگ رخ ایک الگ تصویر ہے جو آپکو ایک اور دنیا میں لے جاے گا جی ہاں اگر توجہ کی تو خود محسوس کرسکیں گے۔ چلیں کچھ لمحوں کے لیے آنکھ بند کرکے تصور کرتے ہیں کہ ابو ہریرہ ؓ ساتھ ہیں دونوں فاطمہ ؓ کے گھر داخلے ہوتے ہیں صحن میں آواز لگاتے ہیں چھوٹو کہاں ہے جواب نہیں ملتا مسجد نبوی آتے ہیں پھر وہی آواز بھئی چھوٹو کہاں ہے؟؟ اسی اثنا حسن ؓ گلے میں ہار پہنے آتے ہیں جس کو دیکھ کر نانا بازوں کو پھیلاتے ہیں وہ بھی اپنے چھوٹے بازوں کو پھیلا کر دوڑتے ہوے نانا سے گلے لگتے ہیں نانا بوسہ دیتے ہیں وہ گود میں بیٹھ کر اپنے ننھے ہاتھوں سے نانا کی داڑھی کے ساتھ کھیلنے لگ جاتے ہیں ۔

کچھ محسوس کیا؟؟ نہیں تو پھر آنکھیں بند کرکے تصور کریں رسول اللہ ﷺ صحابہ کرام ؓ کے ساتھ کھانے کے ایک دعوت میں جا رہے ہیں رستے میں حسین ؓ کھیل رہے ہیں رسول اللہ ﷺ آگے بڑھتے ہیں حسین ؓ کو پکڑنے کے لیے وہ ادھر ادھر بھاگنے لگتے ہیں آپ پیچھے حتی کہ پکڑتے ہیں ایک ہاتھ مبارک حسین ؓ کے ٹھوڑی کے نیچے رکھتے ہیں اور دوسرے سے گدی پکڑ ماتھے پر پیار بھرا بوسہ دے کر روانہ ہوجاتے ہیں۔

ذرا اور توجہ کے ساتھ اور محسوس کرنے کی کوشش کریں کہ رسول اللہ ﷺ منبر پر بیٹھے ہیں صحابہ کرام ؓ سے مخاطب ہیں صحابہ کرام ؓ توجہ سے سن رہے ہیں اسی دوران دو بچے حسن ؓ اور حسین ؓ نمو دار ہوتے ہیں لڑکھڑاتے ہوے ڈگمگائے ہوتے اپنے نانا کے طرف دوڑتے آرہے ہیں رسول اللہ ﷺ سے رہا نہیں جاتا منبر سے اترتے ہیں دونوں کو اٹھا کر منبر پر ساتھ بٹھا دیتے ہیں پھول جیسے بچے نانا کے ساتھ بیٹھے ہیں ننھے ہاتھوں سے کھیلتے ہیں نانا خطبہ دے رہے ہیں صحابہ ؓ سن رہے ہیں۔

اب اگر سیرت سے وہی مناظر آنکھوں میں حاضر نہیں تو ایک بار پھر یکسوئی کے ساتھ کوشش کریں مجھے یقین ہے کہ آپ آنکھیں بند کرکے سیرت کے اس تصور سے گلش رسول ﷺ کی سیر کریں گے۔ تو چلیں دیکھتے ہیں رسول اللہ ﷺ نماز پڑھتے ہیں سب سے بڑی دختر زینبؓ کی بیٹی امامہ ؓ آتی ہے نواسی بھی نواسوں سے کم نہیں اپنے نانا کے گلے سے لٹک جاتی ہے کندھے پر سوار ہوجاتی ہے قیام میں بھی رکوع میں بھی جب آپ ﷺ سجدہ کرتے ہیں تو زمین پر ساتھ بٹھاتے ہیں اور جب اٹھ جاتے ہیں تو اٹھاتے ہیں.

عالم خان_ترکی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: