عشق رسول ﷺ سے بچے بھی مالامال

نبی اکرم ﷺ کی مقبولیت جس طرح مردوں اور عورتوں میں یکساں تھی اسی طرح بچوں میں بھی بے پناہ تھی.

چھوٹے بچے بھی شمع رسالت کے پروانے تھے۔ اور قربانی دینے میں بڑوں سے پیچھے نہ ر ہے۔ چند واقعات درج ذیل ہیں ۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بدر کے میدان میں کھڑے تھے ان کے دائیں اور بائیں طرف انصار کے دو بچے تھے۔ انہیں خیال ہوا اگر میں قوی اور مضبوط لوگوں کے درمیان ہوتا تو ضرورت کے وقت ہم ایک دوسرے کی مدد کر سکتے ۔اتنے میں ایک بچہ ان کے پاس آیا اور ہاتھ پکڑ کر کہنے لگا چچا جان آپ ابو جہل کو پہنچانتے ہیں انہوں نے کہا ہاں مگر تمہارا کیا مقصد ہے وہ کہنے لگا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ وہ نبی اکرم ﷺکی شان مبارک میں گالیاں بکتا ہے ۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے اگر میں اسے دیکھ لوں تو اس وقت تک میں جدا نہ ہوں یہاں تک کہ وہ مر جاۓ یا میں مر جاؤں ۔حضرت عبدالرحمن بن عوف بڑے حیران ہوۓ اتنے میں دوسرے بچے نے بھی آ کر یہی سوال و جواب دہراۓ ۔ اتنے میں ابو جہل انہیں نظر آیا تو انہوں نے بچوں کو نشاندہی کی کہ تمہارا مطلوب وہ سامنے ہے ۔ دونوں نیچے دوڑ تے ہوۓ گئے ایک نے گھوڑے کی ٹانگ پر وار کیا جس سے گھوڑا گر گیا اور ابو جہل بھی گر پڑا۔ دوسرے نے ابوجہل پر کاری ضرب لگائی۔ بچے اتنے چھوٹے تھے کہ تلوار بڑی تھی اور ان کا قد چھوٹا تھا۔ چنانچہ ایک صحابی نے آگے بڑھ کر ابو جہل کو کیفر کردار تک پہنچایا۔ اس واقعہ سے بچوں کی عزت ایمان اور عشق نبوی ﷺ کا کتنا واضح ثبوت ملتا ہے ۔ ( بخاری )

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: