سورۂ تبت کانزول اور ابولہب کی
بیوی کا غیظ وغضب

اسی طرح ایک روایت ہے کہ اللہ تعالی نے سورہ “تبت يدا ابي لهب و نازل فرمائی (جس میں ابو لہب کی بیوی کو بھی عذاب کی خبر دی گئی ہے .

ابولہب کی بیوی وہاں آگئی اس کا لقب ام جمیل تھا اور اس کا نام عوراء تھا. ایک قول کے مطابق اس کا نام اروی بنت حرب تھا اور میرا بوسفیان ابن حرب کی بہن تھی….. یہ چیختی چلاتی ہوئی اور ہاون دستہ کوٹنے کا پتھر ہاتھ میں لئے ہوۓ آنحضرت ﷺ کی طرف بڑھی اس وقت آپ ﷺکے ساتھ حضرت ابوبکر بھی تھے,صدیق اکبر ﷺ نے اس کو دیکھا تو آنحضرت ﷺسے عرض کیا: …. یا رسول اللہ ﷺ! یہ بہت زبان دراز عورت ہے اگر آپ یہاں ٹہرے تو آپ کو اس کی بدزبانی سے تکلیف ہوگی …. آپ ﷺ نے فرمایا….وہ مجھے نہیں دیکھ سکے گی….. چنانچہ وہ عورت وہاں پہنچ کر حضرت ابو بکر ﷺ سے کہنے لگی اے ابوبکر! تمہارے دوست نے مجھے ذلیل کیا ہے (یعنی میری شان میں وہ بات کہی ہے جو قرآن پاک کی آیت کی صورت میں نازل ہوئی ہے ) ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ تمہارے دوست کا کیا حال ہے جو شعر پڑھتے ہیں ….. حضرت ابوبکر ﷺ نے فرمایا: نہیں وہ تو شعر نہیں کہتے ….. اور ایک روایت میں یہ لفظ ہیں کہ نہیں اس بیت اللہ کے رب کی قسم انہوں نے تجھے ذلیل نہیں کیا….. میرے دوست شاعر نہیں ہیں… وہ تو شعر کہنا ہی نہیں جانتے

اس نے کہا:….میرے نزدیک تم جھوٹ نہیں بولتے….. یہ کہ کر وہ وہاں سے واپس ہوئی اور یہ کہتی جاتی تھی ….. قریش کے لوگ جانتے ہیں کہ میں ان کے سردار کی بیٹی ہوں ….اس کا اشارہ تھا کہ میں عبد مناف کی بیٹی ہوں . عبد مناف ا( جیسا معزز سردار ہو اس کے خلاف کسی کو ایسی بات کہنے کی جرأت نہیں ہونی چاہئے ) غرض ابولہب کی بیوی ام جمیل تو یہ کہتی ہوئی چلی گئی…..اب ابوبکر ﷺ نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا…… یا رسول اللہ ﷺ! وہ آپ کی کیوں نہیں دیکھ سکی… آپ ﷺ نے فرمایا:…..ایک فرشتہ مجھے اپنے پروں میں چھپاۓ رہا….. چنانچہ اس بارے میں حدیث میں آتا ہے کہ آپ ﷺ نے اس وقت حضرت ابوبکر سے فرمایا تھا … اس سے پوچھنا کہ کیا تم میرے پاس کسی کو دیکھ رہی ہو؟ چنانچہ جب وہ وہاں پہنچی تو حضرت ابوبکر ﷺ نے اس سے یہی سوال کیا اس پر اس نے کہا….. کیا تم میرے ساتھ مذاق کر رہے ہو….. خدا کی قسم تمہارے پاس کوئی بھی نہیں ہے ( حوالہ حجتہ اللہ)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: