حضور ﷺ کے سینہ مبارک کو زمزم کے پانی سے دھونے کا واقعہ.

حضور ﷺ کے سینہ مبارک کو زمزم کے پانی سے دھونے کا واقعہ.

خلاصۃ السیر میں ہے کہ دائی حلیمہ نے بیان کیا , ایک بار آپ ﷺاونٹوں کے مقام پر تھے ,آپ صہ کا رضائ بھائ دوڑا ہوا ہمارے پاس آیا اور کہنے لگا ,دو سفید پوش آدمیوں نے میرے قریشی بھائی کو پکڑ کر زمین پر لٹا کر پیٹ پھاڑ دیا.

حضرت حلیمہ کا بیان ہے کہ ہم یہ بات سن کر فورا ان کی طرف نکل کھڑے ہوئے….جا کر دیکھا تو آپ منہ لپیٹے کھڑے ہوئے تھے…. ہم نے آپ کو چمٹالیا اور دریافت کیا کہ کیا واقعہ ہوا ؟ آپ نے فرمایا! دو سفید پوش آۓ اور انہوں نے مجھےلٹا کر میرا پیٹ پھاڑ پھر اس کے اندر کسی چیز کوٹولا… مجھے معلوم نہیں کہ انہوں نے کیا چیز نکالی…..

حضرت شداد بن اوس کی روایت سے ابویعلی… ابن نعیم اور ابن ابی عسا کر نے ان الفاظ کے ساتھ یہ حدیث نقل کی ہے کہ تین آدمیوں کا ایک گروہ آیا ان کے پاس سونے کا طشت تھا جو برف سے بھرا ہوا تھا ان میں سے ایک نے مجھے زمین پرلٹایا (اور پیٹ پھاڑ کر پھر پیٹ کے اندر کی چیزیں نکالیں …. پھر ان کو برف سے دھویا اور خوب دھویا پھر ان کو ان کی جگہ دوبارہ رکھ دیا…..

پھر دوسرا کھڑا ہوا اس نے میرا دل نکال کر پھاڑا ( اور اس کو صاف کیا ) یہ باتیں میں دیکھ رہا تھا…. پھر ایک سیاہ بوٹی اس کے اندر سے نکال کر پھینک دی ….. پھر دائیں بائیں طرف ہاتھ گھمانے لگا معلوم ہوتا تھا کوئی چیز تلاش کر رہاہے …. پھر مجھے نظر آیا کہ اس کے ہاتھ میں ایک انگوٹھی ہے جو جسم نور ہے … اس کو دیکھنے سے نگاہ میں چکا چوند ہو رہی تھی ….. اس انگوٹھی سے اس نے میرے دل پر مہر لگا دی… مهر لگاتے ہی میرادل نور سے بھر گیا میں نبوت و دانش کا نور تھا…. پھر دل کولوٹا کر اس کی جگہ پر رکھ دیا, میں اس مہر کی خنکی اپنے دل میں مدت تک محسوس کرتا رہا …. پھر تیسرے شخص نے اپنے ساتھی سے کہا تم ہٹ جاؤ ( وہ ہٹ گیا تیسرے شخص نے سینے کے وسطی لکیر کے آغاز سے زیر ناف کے آخری حصے تک ہاتھ پھیرا فورا شگاف جڑ گیا.

حضرت انس ر ضہ کا بیان ہے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ پر سلائی کا نشان دیکھتا تھا….ابن عساکر کی روایت میں آیا ہے کہ ایک سال قحط پڑا…..ابوطالب حضور ﷺ کو لے کر بارش کی دعا کرنے کعبے کے پاس پہنچے …. کعبہ کی دیوار سے اپنی پشت لگائی اور حضور ﷺ کی انگلی پکڑی اس وقت آسان پر بادل کا ٹکڑا بھی نہ تھا….فورا ادھر ادھر سے بادل آ گیا اور موسلا دھار خوب بارش ہوئی ….. اتنی کہ ساری وادی بہہ

اس واقعہ کی طرف ابوطالب نے ذیل کے شعر میں اشارہ کیا ہے ان کا رنگ گورا ہے ان کے طفیل بارش کی دعا کی جاتی ہے وہ یتموں کی پناہ گاہ اور رانڈوں کی عصمت بچانے والے ہیں …(تفسیر مظہری)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: