آنکھ اور دل کے نور میں فرق

آنکھ کا نور اور چیز ہے دل کا نور اور چیز ہے حکیم انصاری دہلی کے بڑے مشہور حکیم تھے.

اللہ نے کیا فہم وفراست عطافرمائی تھی اندھے تھے لیکن حکمت کا کام کیا کرتے تھے ہاتھ دیکھتے تھے اور مریض کے مرض کو پہچان لیا کرتے تھے بڑے مشہور حکیم تھے اگر دوسرے حکموں سے مرض قابو میں نہ آ تا تو مریض ان کے پاس جایا کرتے تھے ہمارے سلسلے کے ایک بزرگ خواجہ محمدعبدالمالک صدیقی فرماتے ہیں مجھے شوق ہوا کہ میں بھی ذرا ان حکیم صاحب کو دیکھوں چنانچہ میں ان کی دکان پر گیا ان سے کوئی بات نہیں کی تا کہ میرے آنے کا ان کو پتہ نہ چلے اور وہاں بیٹھ کر میں نے ان کے دل پر توجہ ڈالنی شروع کر دی کچھ دیر گزری تو میں نے کہا اچھادل کے بجاۓ روح پر توجہ ڈالتا ہوں جب میں نے اس پر توجہ ڈالنا چاہی تو وہ فورا بول اٹھے ناں تان حضرت آپ میرے دل پر ہی توجہ کرتے رہیں اگر یہی بن گیا تو سب کچھ بن گیا فرماتے ہیں میں حیران ہو گیا کہ اس شخص کو نابینا کون کہے جسے بتایا بھی نہیں گیا مگر اس کا دل ایسا صاف ہے کہ وہ آنے والے انوارات کو محسوس کر رہا ہے اللہ اکبر۔

( خطبات ذوالفقار ۱/۸۷)

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: