طلاقوں کے حوالے سے اہم باتیں

قرآن مجید نے تین طلاقیں (وقفہ بعد وقفہ) واقع ہونے کے بعد جو بتایا ہے کہ اب وہ عورت کسی دوسرے مرد سے جب تک نکاح نہ کر لے ، وہ پہلے خاوند کے لئے حلال نہیں ہوتی۔ اس کی تفسیر تمام مفسرین نے یہی لکھا ہے کہ جس طرح پہلے خاوند کے ساتھ مقصد نکاح کو مد نظر رکھتے ہوئے مستقل بسنے اور گھر کی آبادی کی نیت سے نکاح کیا تھا۔

اسی طرح دوسرے مرد سے بھی مستقل بسنے کی نیت سے نکاح ہو نہ کہ نکاح سے پہلے ہی یہ طے کر لیا جائے کہ ایک دو راتوں بعد اس خاوند نے مجھے طلاق دے دینی ہے۔ ہاں پھر وہ بھی اگر اپنی مرضی سے طلاق دے دے یا فوت ہو جائے تو وہ عورت اپنے پہلے خاوند کے ساتھ نکاح کرنا چاہتی ہو تو کر سکتی ہے۔ اس صورت کو حلالہ نہیں کہا جاسکتا۔ یہ اسی طرح نکاح صحیح کہلائے گا جس طرح پہلے خاوند کے ساتھ نکاح تھا۔ موجودہ کچھ حضرات آج کل اپنے دوسرے طریقے سے چشم پوشی کرتے ہوئے اسے حلالہ قرار دے رہے ہیں ۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حلالہ کرنے والا اور جس کے لئے حلالہ کیا جائے، دونوں پر اللہ کی لعنت ہو۔ (مسند احمد۲/۳۲۳، بیہقی۷/۲۰۸، نسائی۶/۱۴۹، ترمذی۱۱۲۰،دارمی۲/۱۹۸، ابودائود۲۰۷۶٠٧٦) اسی طرح فرمایا : حلالہ کرنے والا اُدھار مانگے ہوئے سانڈھ کی طرح ہے۔ (ابنِ ماجہ۱۹۳۶، مستدرک حاکم۲/۱۹۸، بیہقی۷/۲۰۸)

اس مُحلّل (حلالہ کرنے والے )کی تشریح ائمہ لغت اور شارحین حدیث رحمۃ اللہ علیہم کے حوالے سے ملاحظہ کیجئے اور اچھی طرح سمجھ لیجئے کہ حلالہ کس آفت و مصیبت کا نام ہے۔ حدیث کی لغت کی معروف کتاب الھایہ فی غریب الحدیث والاثر ۱/۴۳۱ پر مرقوم ہے: حلالہ یہ ہے کہ آدمی اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دے۔ پھر دوسرا آدمی اس عورت کے ساتھ اس شرط پر نکاح کرے کہ وہ اس کے ساتھ وطی کرنے کے بعد اسے طلاق دے دے تا کہ پہلے کے لئے حلال ہو جائے۔

فقہ کی فقہی اصطلاحات پر شائع شدہ کتاب القاموس الفقھی ص۱۰۰٠مطبوعہ ادارہ القرآن کراچی میں مُحلّل کی تعریف یہ لکھی ہے کہ مُحلّل سے مراد حلالہ کرنے والا وہ شخص ہے جو مطلقہ ثلاثہ کے ساتھ اس لئے نکاح کرے تا کہ وہ پہلے خاوند کے لئے حلال ہو جائے اور حدیث شریف میں وارد ہے حلالہ کرنے والا اور جس کے لئے حلالہ کیا جائے ان دونوں پر اللہ کی لعنت ہو۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: