جنت میں داخلے کا منظر

جنت تمام لوگ پل صراط پار کر جائیں گے تو آگے جنت نظر آئے گی اور جنت کی ایک طرف دو چشمے بہہ رہے ہوں گے۔

سارے جنتی ایک چشمے سے وضو کریں گے اور ایک چشمے کا پانی پی لیں گے۔ پانی پی لیں گے تو سینے کا کھوٹ انسان کے اندر کی تمام منفی چیزیں ختم کر دی جائیں گی جیسے حسد، کینہ، بغض، دشمنی وغیرہ وغیرہ ۔ اور جب وضو کریں گے تو مرد، عورت دونوں کا چہرہ صاف ستھرا اور روشن کر دیا جائے گا اور مردوں کی داڑھی ختم کر دی جائے گی۔ جب جنتیوں کو جنت کے اندر داخل کیا جائے گا تو ان کو کچھ انبیاء کی خصوصیات سے نوازا جائے گا، حضرت آدم علیہ السلام کا قد 130 فٹ تھا تو تمام جنتیوں کا قد 130 فٹ کر دیا جائے گا، یوسف علیہ السلام کی خوبصورتی سے نوازا جائے گا، داؤد علیہ السلام کی میٹھی آواز سے نوازا جائے گا، ایوب علیہ السلام کے دل والی صفات نوازی جائیں گی، عیسی علیہ السلام کی عمر نوازی جائے گی حضرت عیسی علیہ السلام کی عمر 34 سال تھی یعنی جنت میں انسان کی عمر ہمیشہ 34 سال ہی رہے گی اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق نوازے جائیں گے۔ اللہ پاک جنتیوں کو ان 6 نبیوں کی کے ساتھ جنت میں داخلہ کرے گا ۔

جیسے ہی لوگ جنت میں داخل ہوں گے تو اللہ پاک اپنا دیدار کروائیں گے سب کو

وُجُوۡهٌ يَّوۡمَٮِٕذٍ نَّاضِرَةٌۙ●اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ●
“اور اس دن(جنت میں) بہت سارے چہرے تروتازہ ہوں گے اور اپنے رب کو دیکھ رہے ہوں گے”
(سورہ القیامہ آیت، 23-22)

پھر اللہ پاک فرمائیں گے میرے بندو تم لوگوں کو ایک عالیشان زندگی مبارک ہو اور اب موت ختم، جوانی مبارک، اب بڑھاپا ختم، بادشاہی مبارک اب غریبی ختم، امیری مبارک
سورہ حاقہ آیت نمبر 20
فَهُوَ فِىۡ عِيۡشَةٍ رَّاضِيَةٍۙ‏●فِىۡ جَنَّةٍ عَالِيَةٍۙ‏●
اور پھر کہے گا میرے بندو تم نے میں دنیا میں مجھے خوش کیا۔ جیسے میں نے کہا ویسے کیا۔ اپنی خواہشوں کو میرے احکامات پر قربان کیا۔ اپنی مرضی سے نہیں جیے۔ اپنی خواہشات اور اپنے جذبات کو میرے احکامات کے آگے قربان کردیا۔ آج تم لوگوں کو میں وہ زندگی دے رہا ہوں جو میں نے اپنی مخلوقات میں سے کسی کو بھی نہیں دی، جاؤ کھاؤ پیو اور مزے کرو

سورہ حاقہ آیت نمبر 24
كُلُوۡا وَاشۡرَبُوۡا هَنِيۡٓــًٔاۢ بِمَاۤ اَسۡلَفۡتُمۡ فِىۡ الۡاَيَّامِ الۡخَـالِيَةِ●

جنت میں داخل ہوتے ہی کارپٹ بچھائے جائیں گے جن پر تخت لگا کر جنتیوں کو بٹھایا جائے گا۔ قرآن میں ایک جگہ پر اللہ تعالیٰ نے کہا وہ جو جنت میں میں نے تم لوگوں کے لئے قالین بچھائے ہیں نہ ان کے اوپر جو نقش و نگار ہیں ان کو تو چھوڑو، اوپر سے میں نے کیسے بنایا ہے یہ میں بتاتا نہیں جب ان قالین کو تم نیچے سے اٹھا کر دیکھو گے تو تمہاری آنکھیں بلبلائیں گیں تمہاری آنکھیں برداشت نہیں کر سکیں گی ایسے حسین ڈیزائن میں نے نیچے بنائے ہیں تو سوچو میں نے ان کو اوپر سے کیسے بنایا ہوگا جہاں پر میں تم لوگوں کو بٹھاؤں گا، گاؤ تکیے لگواؤں گا اور آگے صراحیاں رکھوا دونگا جن میں شراب ہوگی۔
سورۃ دھر آیت نمبر 13
مُّتَّكِئِينَ فِيهَا عَلَى الْأَرَائِكِ لَا يَرَوْنَ فِيهَا شَمْسًا وَلَا زَمْهَرِيرًا

جنت میں ایک چشمہ ہے جس کا نام ہے تسنیم اور یہ جنت کی سب سے اعلیٰ درجے کی شراب ہے اور جب جنتی تمنا کرے گا اسے پینے کی اس کی ایک دھار باہر آئے گی اور اس کے گلاس میں جائے گی اور ایک قطرہ بھی اس کا گلاس سے باہر جائے گا نہ زمین پر گرے گا۔
سورہ مطففین آیت نمبر 27,28
وَ مِزَاجُهٗ مِنۡ تَسۡنِيۡمٍۙ‏ ●عَيۡنًا يَّشۡرَبُ بِهَا الۡمُقَرَّبُوۡنَؕ‏●

تسنیم کی شراب جنت کی سب سے اسپیشل شراب ہے جو صرف اور صرف جنت الفردوس والوں کو پلائی جائے گی۔ باقی جنت والوں کو اس شراب کے دو، چار قطرہ ڈال کر پلائے جائیں گے اور جنت الفردوس والوں کو خالص پلائی جائے گی اور پلانے والا رب خود ہوگا۔ اور باقی جنتیوں کو ان کے نوکر پلائیں گے اور انکو ایک ایسی شراب دی جائے گی جس میں اللہ پاک کا فور مکس کر کے دے گا کہے گا اسے ذرا چکھو کیسی ہے
سورہ دھر آیت نمبر 5
اِنّ الْأَبْرَارَ يَشْرَبُونَ مِن كَأْسٍ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُورًا●

ہمارے نبی نے فرمایا جنت تمہارا وہ مقام ہے جہاں پر اللہ تم لوگوں کو تحفے بھیجا کرے گا۔ میاں بیوی جنت کے محل میں بیٹھے ہوں گے کہ دروازے پر دستک ہو گی خادم دروازے پر دیکھے گا تو ایک فرشتہ کھڑا ہوا ہوگا جس کے ہاتھ میں تھال ہوگا جو کہ covered ہوگا اور خادم سے کہے گا مجھے اللہ نے بھیجا ہے اور آپ کے صاحب کے لیے یہ تحفہ بھیجا ہے اللہ نے۔خادم آ کر بتائے گا کہ باہر فرشتہ آیا ہے اندر آنے کی اجازت چاہتا ہے۔ فرشتےکو اجازت ملے گی تو اندر آ کے وہ تھال پیش کرے گا اور کہے گا اللہ نے تحفہ بھیجا ہے آپ دونوں کے لیے۔ جب میاں بیوی تھال کے اوپر سے کپڑا ہٹائیں گےتو کہیں گے یہ پھل بھیجا ہے اللہ نے یہ تو ابھی کھایا ہے ہم دونوں نے۔ تو فرشتہ کہے گا اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے تھوڑا سا چکھ لو شاید کوئی اور چیز ہو۔ تو وہ ایک ٹکڑا نکال کر منہ میں رکھیں گے تو مسکرا پڑیں گے۔ اللہ نے اس ایک پھل کے اندر جنت کے جتنے بھی پھل ہیں سب کا ذائقہ ایک پھل کے اندر سمو کے taste کروائے گا۔ جیسے ہم چاٹ بناتے ہیں اور چار، پانچ فروٹ کو مکس کر دیتے ہیں تو کوئی الگ ہی ذائقہ بن جاتا ہے تو ان دونوں کو بھی ایک الگ مزہ آئے گا اس سے۔ پھر اللہ پوچھے گا ہاں میرے بندے اب بتاؤ وہی ہے یا کوئی اور چیز ہے۔

ڪُلَّمَا رُزِقُوۡا مِنۡهَا مِنۡ ثَمَرَةٍ رِّزۡقًا‌ۙ قَالُوۡا هٰذَا الَّذِىۡ رُزِقۡنَا مِنۡ قَبۡلُ وَاُتُوۡا بِهٖ مُتَشَابِهًا‌ؕ
“جب انہیں ان میں سے کسی قسم کا میوہ کھانے کو دیا جائے گا تو کہیں گے، یہ تو وہی ہے جو ہم کو پہلے دیا گیا تھا”
(سورۃ البقرہ، 25)

اور یہی نہیں جنت کے اندر دنیا کے تذکرے بھی ہونگے، دنیا کے حال احوال بھی ہوں گے کہ فلاں دوست کا کیا بنا، یار اسے بہت تبلیغ کی تھی لیکن اس نے نہیں مانی وہ بیچارہ جہنم میں ہے یا جنت میں فلاں جگہ پر ہے ، یا جیسے ہمارے ہاں یہاں پر دل کرتا ہے کہ آج پانچ، آٹھ دوست سب مل کر party کرتے ہیں یا فلاں دوست کے پاس چلتے ہیں آج بریانی بناتے ہیں۔ سارا کچھ جنت میں ہوگا جو ہم یہاں پر دنیا میں کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ صحیح مسلم کی ایک روایت ہے ایک شخص اللہ کے پاس جائے گا اور کہے گا یا اللہ مجھے کھیتی باڑی کرنی ہے کام تو ہے کوئی نہیں یہاں تو مجھے کھیتی باڑی کرنی ہے۔ اللہ فرمائے گا ضرورت کیا ہے تمہیں جنت دے دی ہے ابھی بھی تمہیں کھیتی باڑی کرنی ہے۔ اللہ کہے گا ٹھیک ہے پھر جاؤ کرو کھیتی باڑی، اللہ اس کے لیے اسباب پیدا کرے گا اور وہ کھیتی باڑی کے گا، ہل جوتے گا اور جانور چلائے گا۔ حالانکہ ضرورت نہیں ہے لیکن وہ کہے گا اور اللہ ہر بات مانے گا۔ اللہ جنت میں اپنے بندے کا ہر لاڈ مانے گا، جو بھی وہ منہ سے نکالے گا اللہ پاک اسے پورا کرے.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: