کیا اللہ گناہ گار بندے کی دعا قبول نہیں کرتا؟

کائنات میں سب سے بڑا گناہ گار کون ہے “ابلیس”۔ اس سے بڑا گناہ گار تو کوئی نہیں ہے بلکہ یہ تو گناہگاروں کی فیکٹری ہے جہاں سے گناہگار تیار ہوتے ہیں۔ اللہ پاک نے اس کی بھی دعا رد نہیں کی۔ جہاں پر بھی قرآن میں اللہ نے ابلیس کا ذکر کیا تو اس کی دعا کا ذکر ضرور کیا۔

قَالَ رَبِّ فَاَنۡظِرۡنِىۡۤ اِلٰى يَوۡمِ يُبۡعَثُوۡنَ●قَالَ فَاِنَّكَ مِنَ الۡمُنۡظَرِيۡنَۙ●
(سورہ الحجر، 36,37)
“اس نے کہا کہ پروردگار مجھے اس دن تک مہلت دے جب لوگ (مرنے کے بعد) زندہ کئے جائیں گے۔فرمایا کہ تجھے مہلت دی جاتی ہے”

اللہ پاک نے فرمایا اگر ہدایت مانگ لیتا تو ہدایت دے دی جاتی ہے اور اگر مجھ سے معافی مانگ لیتا تو اسے معافی دے دی جاتی لیکن اس نے مہلت مانگی تو ہم نے اسے مہلت دے دی۔اس کی بھی دعا رد نہیں کی اللہ پاک نے۔ اس کے بعد تو کسی کو یہ تصور بھی نہیں آنا چاہیے کہ کوئی شیطان سے بھی بڑا گناہ گار ہو سکتا اور اللہ پاک اس کی دعا رد کر سکتا ہے۔

اللہ نے کہا مجھ سے مانگو میں تمہیں دوں گا، تیری سنوں گا اور پوری کروں گا

رَبُّكُمُ ادۡعُوۡنِىۡۤ اَسۡتَجِبۡ لَكُمۡؕ
مجھ سے دعا کیا کرو کہ میں ضرور قبول کرتا ہوں۔
(سورہ غافر، 60)


أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ.
جب کوئی دعا کرنے والا مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں.
(سورہ البقرہ، 186)


اَمَّنۡ يُّجِيۡبُ الۡمُضۡطَرَّ اِذَا دَعَاهُ.
جب کوئی ٹوٹ کر تڑپ کے اسے پکارتا ہے تو وہ اس کی دعا قبول کرتا ہے۔
(سورہ نمل، 62)

اس نے دعا مانگنے کے لیے ایمان کی شرط بھی نہیں لگائی، نماز اور روزے کی شرط بھی نہیں لگائی دعا مانگنے اور قبول کرنے کے لئے۔ یہ نہیں کہا کہ کوئی مسلمان یا ایمان والا دعا مانگتا ہے تو میں قبول کرتا ہوں بلکہ یہی کہا کہ کوئی بھی انسان جب تڑپ کے مانگتا ہے، روکہ مانگتا ہے تو میں عطا کرتا ہوں۔ صرف میرے سامنے آنسو بہا کہ، آہیں بھر کے مانگ پھر میں نہیں دیکھو گا تو مشرک ہے، کافر ہے یا مسلمان پوری کروں گا۔

اور اکثر لوگ یہ شکایت کرتے ہیں کہ اللہ ہماری سنتا ہی نہیں اس نے ہمیں بھلا دیا ہے جب کہ وہ کہہ رہا ہے

وَمَا تَسۡقُطُ مِنۡ وَّرَقَةٍ اِلَّا يَعۡلَمُهَا

درخت سے گرنے والا کوئی ایسا پتہ نہیں جس کا اللہ کو علم نہ ہو
(سورۃ الانعام، 59)
بلکہ اس کے علم کی انتہا تو یہ ہے اس نے سورۃ “ق” کی آیت نمبر 16 میں کہا

وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ وَنَعۡلَمُ مَا تُوَسۡوِسُ بِهٖ نَفۡسُهٗ

“میں نے انسان کو پیدا کیا یہاں تک کہ جو خیالات اس کے دل کے اندر گزرتے ہیں میں ان کو بھی جانتا ہوں”

درخت کا پتہ ادنیٰ چیز ہے انسان اعلیٰ چیز ہے تو پھر وہ آنسو جو آپکی آنکھ سے ٹپکا، وہ درد جو آپکے دل میں ہے اسے کیسے پتہ نہ ہو؟

اور دنیا کی کوئی بھی ہستی انسان کے اتنا قریب نہیں جتنا اللہ انسان کے قریب ہے کیونکہ اللہ نے خود کہا

وَاِذَا سَاَلَـكَ عِبَادِىۡ عَنِّىۡ فَاِنِّىۡ قَرِيۡبٌؕ
جب میرے بندے آپ سے میرے متعلق پوچھیں تو انہیں بتا دو کہ میں تو انکے بہت ہی زیادہ قریب ہوں
(سورہ البقرہ ، 186)
اور کتنا قریب ہوں؟
نَحۡنُ اَقۡرَبُ اِلَيۡهِ مِنۡ حَبۡلِ الۡوَرِيۡدِ‏
یہ جو تیری شہ رگ ہے یہ دو ہے میں زیادہ قریب ہوں تم سے.
(سورہ “ق”، 16)

صرف یہی نہیں بلکہ اس نے پکا وعدہ کیا کہ میرے اوپر ایک دفعہ کامل یقین رکھ کہ تو دیکھ کہ جب میرے اوپر یقین رکھے گا تو چاہے پھر ساری دنیا ہی کیوں نہ مخالف ہو جائے میں عطا کرکے رہوں گا

سورۃ الطلاق، آیت 3

وَمَنۡ يَّتَوَكَّلۡ عَلَى اللّٰهِ فَهُوَ حَسۡبُهٗؕ اِنَّ اللّٰهَ بَالِغُ اَمۡرِهٖ‌ؕ

“اور جو کوئی بھی اللہ پر بھروسہ کرے گا تو اللہ اس کے لیے کافی ہے۔ یقین رکھو اللہ اپنا کام پورا کرکے ہی رہتا ہے”

پھر جب وہ دیکھتا ہے کبھی مجھ سے اور کبھی غیروں سے مانگتا ہےتو پھر وہ کہتا ہے

اَلَيۡسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبۡدَهٗ‌ؕ ۔.
(سورۃ زمر آیت 36)

میرے بندے کیا میں اکیلا کافی نہیں ہوں؟

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: