مسلمان ظالم سے کافر عادل افضل ہے

۲۵۶ ھ میں ہلاکو خان نے بغداد فتح کیا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب کہ مسلمان اپنی ارداریوں کی وجہ سے انتہائی ذلت وپستی کی حالت کو پہنچ چکے تھے اور خدا کی زمین پر بار رہے تھے ۔

ہلاکوخان نے فتح حاصل کرنے کے بعد حکم دیا کہ علماء سے اس امر کی نسبت فتوی لیا جاۓ کہ کافر عادل بادشاہ افضل ہے یا مؤمن مگر ظالم؟ اس استفتار نے علماءکو ایک عجیب مشکل میں ڈال دیا۔ کیونکہ وہ بھی اسی زمانہ وحالت استختار نے علماء کو اس و حالت سے تعلق رکھتے تھے۔ جن کو قدرت کی طرف سے بدلنے کا سامان کیا گیا تھا۔ اس فتوی کا جواب دینے کے لئے تمام علماء مدرسہ مستنصریہ میں جمع ہوۓ ۔ کافی ور وخوض ہوا۔ مگر جواب لکھنے کی کسی کو ہمت نہ ہوئی ۔ حسن اتفاق سے اس مجلس میں رضی الدین علی بن طاؤس بھی موجود تھے ۔ جواس وقت کے طبقہ علماء میں بہت ہی معزز ومحترم تھے انہوں نے جب علماء کی یہ جھجک دیکھی تو فتوی اپنے اتھ میں لے لیا۔ اور اس پر یہ لکھ کر رکھ دیا کہ ”مسلمان ظالم سے کافر عادل بادشاہ افضل ہے ۔‘‘ گو بظاہر بیفتوی اپنے خلاف دیا گیا۔ مگر یہ نشاء قرآن کے عین مطابق تھا۔ جو دنیا سے ظلم وفسادکومٹانے اور امن وانصاف قائم کرنے کی تعلیم دینے کے لئے نازل ہوا۔ اس غرض کے لئے شرط’مسلمان‘‘ کی نہیں بلکہ یہی کام بارہا قدرت نے غیر مسلموں سے بھی لیا۔ امام ابن تیمیہ اپنی کتاب الجستہ فی الاسلام میں لکھتے ہیں: ’’روایت کیا گیا ہے کہ اللہ تعالی عادل سلطان کی مددفرماتا ہے ۔ اگر چہ وہ کافر ہو۔ ظالم مسلمان کی مددنہیں فرما تا اگر چہ وہ مومن ہو ۔‘‘

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: