معجز شق القمر : تیری انگلی بھی چاند کا کلیجہ چر گیا

“اقتربت الساعة وانشق القمر“ ہجرت مدینہ سے تقریبا پانچ سال پہلے ایک مرتبہ مشرکین مکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آے .

جن میں ولید بن مغیرہ,ابو جہل , عاص بن وائل,زمر بن الاسود ,نضر بن حارث وغیرہ وغیرہ بھی تھے .آپ سے یہ درخوست کی کہ اگر آپ سچے نبی ہیں تو اپنی نبوت کا کوئی خاص نشان دکھلائیں اور ایک روایت میں ہے کہ یہ کہا کہ چاند کے دوٹکڑے کر کے دکھلا و… رات کا وقت تھا اور چودھویں رات کا چاند طلوع کئے ہوۓ تھا…..

آپ ﷺ نے فرمایا: ان فعلت تومنون“ اچھا اگر یہ معجزہ دکھلا دوں تو ایمان بھی لے آؤگے….. لوگوں نے کہاہاں ہم ایمان لے آئیں گے… حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حق جل شانہ سے دعا کی اور انگشت مبارک سے چاند کی طرف اشارہ فرمایا…..اسی وقت چاند کے دوٹکڑے ہو گئے ایک ٹکڑا جبل ابی قبیس پر تھا اور دوسرانکرا جبل قیقعان پر تھا.دیر تک لوگ حیرت سے دیکھتے رہے تھے. حیرت کا یہ عالم تھا کہ اپنی آنکھوں کو کپڑے سے پونچھتے تھے اور چاند کی طرف دیکھتے تھے تو صاف دوٹکڑے نظر آتے تھے اور حضور صہ اس وقت یہ فرمارہے تھے:.. “اشهد وا.. اشهدوا…. اے لوگو! گواور ہو اے لوگو! گواہ رہو ۔ عصر اور مغرب کے درمیان جتنا وقت ہوتا ہے اتنی دیر چا نداسی طرح رہا اور اس کے بعد پھر ویسا ہی ہو گیا… مشرکین مکہ نے کہا کہ:… “هذا من سحر ابن ابی کبشه محمد (ﷺ) تو نے جادو کر دیا ہے کہ تم باہر سے آنے والے مسافروں کا انتظار کرو اوران سے دریافت کرو کیونکہ یہ ناممکن ہے کہ محمد(ﷺ) تمام لوگوں پر جادو کردیں اگر وہ بھی اسی طرح اپنا مشاہدہ کر یہ نہیں کہ ہم نے نہیں دیکھا تو سمجھنا محمد ( ﷺ) نے تم پر سحر کیا ہے۔۔۔ چنانچہ مسافروں سے دریافت کیا گیا ہرطرف سے آنے والے مسافروں نے اپنا مشاہدہ بیان کیا کہ ہم نے شق قمر دیکھا ہے مگر ان شہادتوں کے باوجود بھی معائدین ایمان نہ لائے اور یہ کہا کہ یہ حر مستمر ہے یعنی عنقریب اس کا اثر زائل ہو جائے گا….. اس پر یہ آیت نازل ہوئی:….. “اقتربت الساعة وانشق القمرواين يروآية يعرضواويقولوا سحر مستمر…“ معجزہ شق القمر کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں واقع ہونا قرآن کریم اور احادیث متواترہ اور اسانید صحیحہ اور چیدہ سے ثابت ہے اور اس پر تمام سلف اور خلف کا
اجماع ہے.

حوالہ دلائل الدورة وخصائل کبری و حجۃ اللہ الوفاء ابن جوزی و مدارج ال )

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: