عشق ومحبت کی دکان دیکھی ہے آپ نے؟

میرے دوستو ! اللہ کی قسم کھا کر عرض کرتا ہوں اس عاجز نے مجمع میں کبھی اس طرح قسمیں نہیں کھائیں.

مگر آج میرے بی نے چاہا کہ یہ بات عرض کر دی جاۓ کہ اس عاجز نے بھی اپنی زندگی میں عشق کی ایک دکان دیکھی ہے اس کے گواہ حضرت حکیم عبداللطیف صاحب مدظلہ العالی بیٹھے ہیں ۔ دو عشق کی دکان چکوال میں دیکھی تھی وہان پینے والے آتے تھے کوئی مشرق سے آتا تھا۔ کوئی مغرب سے آ تا تھا کوئی پیار سے آ تا تھا کوئی کراچی سے آ تا تھا کہیں سے میر صاحب چلے آ رہے ہوتے تھے کہیں سے حکیم عبداللطیف صاحب آ رہے پڑیا لینے آ تا تھا اور کہیں سے کوئی عشق کا پیالہ پینے کیلئے آتا تھا پیشق کے سودائی سے محبت الہی ہوتے تھے کہیں سے مولانا نعیم اللہ صاحب آ رہے ہوتے تھے کہیں سے کوئی عشق کی سے منگنے میحبت الہی لینے والے فقیر بے تاب ہو کر اپنے گھروں سے کھنچے چلے آتے تھے۔ ی وہاں جاتے تھے وہاں ایک مربی اور شیخ تھے جن کی زندگی اللہ رب العزت کے حکموں تنہائی میں بٹھا کر دیتے کبھی کسی سے بیان کروا کر دیتے بھی کسی کو سامنے بٹھا کر دیتے کبھی کے مطابق ڈھل چکی تھی جن کا سین بشق الہی سے بھر چکا تھا وہ شق کی دوا پیتے تھے کبھی کسی کو کسی کو ڈانٹ پلا کر دیتے جو عشق کی دوا پی لیتے تھے وہ اپنے سینوں میں عشق کی گرمی لے کر جاتے تھے میں کبھی بھی سوچتا ہوں کہ جب ان حضرات کے دلوں میں انہوں نے عشق کی ایسی گرمی بھر دی تو پی نہیں کہ اللہ نے ان کے اپنے دل میں عشق کی کیا حرارت رکھی ہوگی۔

جس قلب کی آہوں نے دل پھونک دیئے لاکھوں اس قلب میں یا اللہ! کیا آگ بھری ہوگی

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: