قرآن کی روشنی میں

ایک انسان پیدا ہوتا ہے اور لمبی عمر پاتا ہے بلکہ بعض تو سو سال سے اوپر زندہ رہتے ہیں لیکن اس کے باوجود اتنا نہیں کرسکتے کہ کچھ وقت نکال کر آسمان و زمین کی تخلیق اور دن رات کی تبدیلی کے نظام پر غور کریں کہ آخر یہ سب خالق کائنات نے پیدا کیوں کیا ؟

چند لمحے کی یہ فکر اور غور تدبر ان کو اس نتیجے پر لاسکتی ہے: رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ (سورۃ آل عمران: 191) اے ہمارے رب! تو نے یہ بے مقصد پیدا نہیں کیا، تو پاک ہے، سو ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔

پھر جب وہ رب کی سچی کتاب کھولے گا تو پھر یہ جواب بھی مل جائے گا: وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاریات: 56) اور میں نے جنوں اور انسانوں کو پیدا نہیں کیا مگر اس لیے کہ وہ میری عبادت کریں۔

جہنم میں جانے کے بعد بے ایمان لوگ اس بات کا افسوس کریں گے کہ کاش وہ سنتے اور اپنی عقل استعمال کرتے: وَقَالُوا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ أَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِي أَصْحَابِ السَّعِيرِ (الملک: 10) اور وہ کہیں گے اگر ہم سنتے ہوتے، یا سمجھتے ہوتے تو بھڑکتی ہوئی آگ والوں میں نہ ہوتے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: