حضور ﷺ کے تیر کی برکت سے کنواں بھر گیا

ہجرت کے چھٹے سال میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کے ساتھ عمرہ کا ارادہ کر کے مکہ کی طرف کوچ کیا.

حدیبیہ کے علاقہ میں ایک کنوئیں پر ڈیرہ ڈالا .اس کنوئیں میں پانی کم تھا۔ تھوڑا سا پانی کھینچنے کے بعد ختم ہو گیا…. ی تشنگی و پیاس کی شکایت لے کر آپ ﷺ کے پاس آئے . آپ ﷺ نے ترکش سے تیر نکالا اور فرمایا اسے کنوئیں میں پھینک دیا جائے….اسدی کہتے ہیں کہ خدا کی قسم تیر پھینکنے کے بعد چودہ سونفوس نے سیر ہو کر پانی پیا….. صحیح بخاری کی روایت میں درج ہے کہ مقام حدیبیہ میں لوگوں نے پیاس کی شدت اور پانی کی شکایت کی …. حضور علیہ السلام کنوئیں کے کنارے پر تشریف لاۓ اور ایک ڈول پانی طلب فرمایا….. اس سے وضوفر مایا….. اور پانی کنوئیں میں ڈال دیا… ابھی چند لمحے بھی نہ گز ر نے پاۓ تھے کہ کنوئیں کا پانی جوش مارنے لگا… تمام صحابہ کرام سیراب ہوئے اور تمام مویشیوں نے بھی خوب پانی پیا-

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: