بڑھیا کی جائیداد اور مامون کا فیصلہ

ایک شکستہ حال بڑھیا خلیفہ مامون کے دربار میں آئی اور شکایت پیش کی کہ ایک ظالم نے میری جائیداد چھین لی ہے ۔

مامون نے کہا ،کس نے اور وہ کہاں ہے؟ مامون کو بڑھیا نے اشارے سے بتایا کہ وہ شخص کے پہلو میں موجود ہے۔ آپ مامون نے دیکھا تو وہ خود اس کا بیٹا عباس تھا ۔ وزیر کو حکم دیا کہ شہزادہ کو بڑھیا کے برابر لے جا کر کھڑا کر دو ۔ پھر دونوں کے اظہار سنے ۔شہزادہ عباس رک رک کر آہستہ گفتگو کرتا تھا لیکن بڑھیا بے دھڑک بلند آواز سے مسلسل گفتگو کرتی تھی ۔ وزیر نے بڑھیا کوروکا کہ خلیفہ کے سامنے چلا کر بولنا بے ادبی ہے۔ مامون نے کہا نہیں جس طرح چاہے اسے آزادی سے بولنے دو ۔ سچائی نے اس کی زبان تیز کر دی اور عباس کو گونگا بنا دیا ہے ۔ جب دونوں کے اظہار ختم ہو گئے تو مامون نے فیصلہ بڑھیا کہ حق میں کیا اور جائیدادا سے واپس دلا دی اور معقول رقم عباس سے بطور جرمانہ وصول کر کے بڑھیا کو دلا دی تا کہ اس کی تکلیف کا کچھ معاوضہ ادا ہو سکے جو کہ بڑھیا کو اس کی جائیدادعباس کے قبضہ میں چلے جانے اور انصاف حاصل کر نے کے لئے اٹھانا پڑی تھی ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: