پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانوں سے

ایک صحابی جس کا نام قرمان تھا,کسی وجہ سے جنگ احد میں شریک نہ ہوسکا اور مد بینہ میں ہی پڑارہا.

عورتوں نے اسے کہا: ہماری طرح گھر پر کیوں بیٹھے ہو؟ اس کی حمیت اس قدر جوش میں آئی کہ اس وقت اٹھا اور شریک جہاد ہوا…اس نے اس غضب سے تلوار چلائی کہ سب کے سب حیران وششدر رہ گئے….. آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا تو فرمایا: یہ شخص جہنمی ہے …. لوگوں کو اس بات پر بڑا تعجب ہوا….قرمان نے نعرہ مار کر کہا: بھاگنے سے موت بہتر ہے…..اسی جوش میں اس نے سات مشرکین کو ہلاکر دیا….. چناچہ صحا بہ اس کے پاس پہنچے اور کہا: خدا تجھے شہادت نصیب کرے….. کہنے لگا: خدا کی قسم! میں اسلام کی خاطر نہیں لڑ رہا….. میں تو اس لئے لڑ رہا ہوں کہ یہ لوگ ہمارے نخلستانوں پر کہیں قابض نہ ہوجائیں….. اسی اثناء میں اسے ایک زخم آیا… جس کا درد بڑھتا گیا….. چونکہ یہ درد اس کی برداشت سے باہر تھا , وہ گھبرا گیا اور خنجر سینہ پر رکھ کرخودکشی کی…. چونکہ لوگوں کو حقیقت حال کی خبر ہوئ. آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض عرض کرنے لگے کہ اس نے سات مشرکوں کوقتل کیا ہے ….اس لئے شہید ہوا….. حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”يفعل الله ما يشاء“ بعدازاں جب حقیقت کھلی تو فرمایا:”اشهد انی رسول الله پھر فرمایا: بے شک اللہ تعالی نے دین اسلام کی اس فاجر کے ذریعہ مددکی ..

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: