حضرت بہلول رح کی ہارون الرشید کونصیحتیں

خلیفہ ہارون الرشید حج کو جاتے ہوۓ کوفہ میں چند روز ٹہرے، پھر جب وہاں سے کوچ کیا تو اس کی شاہانہ سواری نہایت شان وشوکت سے حضرت بہلول مجذوب کے پاس سے گزری ۔

حضرت بہلول رحمۃ اللہ علیہ نے ہارون الرشید کو دیکھا تو آگے بڑھ کر کہا، اے امیرالمومنین! مجھ سے ایک حدیث سنتے جاؤ ۔سنو!” حضرت عبداللہ عامری رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ ایک سال حضور صہ حج کوتشریف لے گئے تو منی میں آپ کی سواری اس صورت میں گذری کہ آپ ایک اونٹ پر سوار تھے اور آپ کے نیچے ایک سادہ سا کجاوہ تھا اور حضور صہ کی یہ سواری بغیر کسی دنیاوی دبدبہ کے گزری پس اے ہارون الرشید تم بھی بغیر کسی تکبر ود بد کےانتہائی تواضع سے گزرو۔“ یہ حدیث سن کر ہارون الرشید رو پڑا اور کہنے لگا کہ اے بہلول!کچھ اور امر بالمعروف کی تلقین کرو.

بہلول رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ، اے امیر المومنین اللہ نے مال و جمال عطا فرمایا ہو اور وہ شخص مال میں سے فی سبیل اللہ خرچ کرے اور جمال میں عفت قائم رکھے تو اللہ تعالی اس کو اپنے مقبولوں میں شامل کر لیتا ہے اور اس پر اپنی رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے.

ہارون الرشید نے کہا احسـنـت بـابهلول… پر کہا اے بہلول! اگرتم پرکسی کا کچھ قرض ہوتو بتائیں تا کہ میں ادا کر دوں ۔ اس کے جواب میں حضرت بہلول رحمۃ اللہ علیہ نے کہا، بادشاہ! قرض قرض کے ساتھ ادا ہوسکتا ہے۔ کیونکہ تم اپنے نفس کے مقروض ہو۔ یاد رہے کہ آپ کے نفس پر جوخدا کا قرض ہے اس کی ادائیگی کی فکر کرو ۔میرے قرض کا فکر نہ کرو ۔ ہارون الرشید نے کہا، اچھا آپ کے نام کوئی جا گیر کردوں تا کہ تمہاری گزر اوقات آسان ہو جائے۔

حضرت بہلول رحمۃ اللہ علیہ نے آسمان کی جانب منہ اٹھایا اور کہا، اے امیر المومنین! میں اور آپ دونوں ہی خدا کے بندے ہیں، پھر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ خدا ایک بندے کو یادر کھے اور دوسرے کوفراموش کر دے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: