کامل یقین کی طاقت

ابو مالک رضی اللہ تعالی عنہ ایک صحابی تھے۔ ایک دن کسی سفر سے واپس آرہے تھے کہ راستے میں ایک چور پڑ گیا۔ کہنے لگے میرا مال لے لے مجھے مار کے کیا کرے گا۔

کہنے لگا کہ قتل کروں گا ورنہ تو جاکر عمر کو میری شکایت لگا دے گا اور میں پکڑا جاؤں گا۔ ابو مالک نے کہا چلو پھر دو رکعت نماز تو پڑھنے دے۔ کہنے لگا پڑھ لے نماز، نماز سے کیا ہوتا ہے۔ امام مالک نے نماز پڑھی اور آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر کہا “یا ارحم الراحمین”۔ چور نے تلوار اٹھائی تو ایک دم آواز آئی “رکو مت مارو” چور نے ادھر لکھا ادھر دیکھا کوئی نہیں تھا۔ پھر تلوار اٹھائی تو آواز آئی “رکو چھوڑ دو”۔ اس نے چاروں طرف دیکھا کوئی نہیں تھا۔ جب تیسری مرتبہ تلوار اٹھائی تو ایک تیز رفتار گھڑ سوار آیا اس نے اسے نیزہ مارا اور وہ ختم ہو گیا۔ ابو مالک نے پوچھا تم کون ہو جس کی وجہ سے اللہ نے میری مدد کی؟ اس نے جواب دیا میں چھٹے آسمان کا فرشتہ ہوں، جب تم نے ہاتھ اٹھا کر کہا “یا ارحم الراحمین” تو ساتوں آسمان کے فرشتوں میں ہلچل مچ گئی، عرش کے دروازے تھر تھرانے لگے، اللہ نے کہا کہ کون ہے جو میرے بندے کی مدد کرے گا تو میں تیار ہوا اور تیری مدد کو نکل پڑا۔ جب اس نے پہلی بار تلوار اٹھائی اور میں نے کہا رکو تو میں چوتھے آسمان پر تھا، دوسری مرتبہ اس نے جب تلوار اٹھائی تو میں پہلے آسمان پر تھا۔ اور جب اس نے تیسری مرتبہ تلوار اٹھائی تو میں نے اسے ختم کردیا۔

ایک وہ بھی تعلق ہے کہ ایک دفعہ ہاتھ اٹھانے سے ساتوں آسمانوں کے فرشتوں میں ہلچل مچ جاتی ہے، عرش کے دروازے تھرتھرانے لگتے ہیں اور اور آج یہاں تک کہ کروڑوں لوگ اجتماعی دعائیں کرتے ہیں پھر بھی آسمان کا دروازہ نہیں کھلتا۔ اللہ کے لیے تو سب انسان برابر ہیں تو ہمیں تلاش کرنے کی ضرورت ہے کہ کمی کہاں پر ہے ہم میں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: